’سمندر میں ڈکیتی کر رہا ہے امریکہ‘، وینزویلا سے آنے والے روسی تیل بردار جہاز کی ضبطی پر ماسکو برہم

وینزویلا سے آنے والے روسی تیل بردار جہاز پر امریکی فوجی قبضے کے بعد روس نے امریکہ پر بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی اور کھلے سمندر میں ڈکیتی کا الزام لگایا ہے، جس سے کشیدگی بڑھ گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>ولادمیر پوتن / تصویر: یو این آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

وینزویلا سے تیل لے کر آنے والے روسی پرچم بردار جہاز پر امریکی فوجی کارروائی کے بعد روس اور امریکہ کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔ روس نے اس اقدام کو کھلے سمندر میں ڈکیتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ یہ واقعہ بحرِ اوقیانوس اٹلانٹک کے شمالی حصے میں اس وقت پیش آیا جب آئس لینڈ کے قریب روسی بحریہ کی ایک آبدوز اور متعدد جنگی جہاز تعینات تھے، مگر اس کے باوجود امریکی فورسز نے کارروائی کو انجام دیا۔

ماسکو کے مطابق روسی تیل بردار جہاز، جو وینزویلا سے روانہ ہوا تھا، بین الاقوامی پانیوں میں قانونی طور پر سفر کر رہا تھا۔ روسی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امریکہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جہاز پر موجود روسی شہریوں کے ساتھ انسانی اور باوقار سلوک کیا جائے۔ روس نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی حکام کو روسی شہریوں کی محفوظ اور فوری وطن واپسی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔


روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجی اہلکاروں کے جہاز پر سوار ہونے کے بعد سے اس کا رابطہ منقطع ہے۔ وزارت کے مطابق انیس سو بیاسی کے اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون کے تحت کسی بھی ملک کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ دوسرے ملک کے باقاعدہ رجسٹرڈ جہاز کے خلاف طاقت کا استعمال کرے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے عالمی سمندری نظم و ضبط کو نقصان پہنچا ہے۔

روسی پارلیمان کے ایوانِ بالا کے ایک سینئر رہنما نے بھی امریکہ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ اقدام سمندر میں کھلی لوٹ مار کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اپنے خود ساختہ اصولوں کے تحت بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کر رہا ہے، جس کے نتائج عالمی بحری سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

امریکی ذرائع کے مطابق اس جہاز کو کئی ہفتوں تک ٹریک کیا گیا اور اسے امریکی سمندری نگرانی سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جہاز نے بارہا امریکی ہدایات کو نظرانداز کیا اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے پرچم اور رجسٹریشن میں تبدیلی بھی کی۔ اس آپریشن میں برطانیہ نے لاجسٹک تعاون فراہم کیا اور برطانوی ہوائی اڈوں اور نگرانی کے طیاروں کو استعمال میں لایا گیا۔

اس واقعے نے ایک بار پھر امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے، جب کہ عالمی برادری اس صورتحال کو تشویش کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ دونوں طاقتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ بین الاقوامی سمندری قوانین اور عالمی امن کے لیے ایک نیا امتحان بن کر سامنے آیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔