افغانستان کے قندھار ایئرپورٹ پر راکٹ حملہ، تمام پروازیں معطل

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اہلکار نے راکٹ حملے کی تصدیق کی، طالبان کی جانب سے قندھار کے مضافات پر لگاتار کئے جا رہے حملوں کے بعد یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ باغی صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کرنے سکتے ہیں

قندھار ایئرپورٹ، علامتی تصویر
قندھار ایئرپورٹ، علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

کابل: عسکریت پسند تنظیم طالبان نے گزشتہ شب افغانستان کے جنوبی علاقے میں قندھار ایئرپورٹ پر راکٹ سے حملہ کیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایئر پورٹ کے سربراہ مسعود پشتون کے حوالے سے بتایا کہ ایئر پورٹ پر کم از کم 3 راکٹ داغے گئے۔ جس کی وجہ سے تمام پروازیں معطل کر دی گئیں۔ خیال رہے کہ امریکہ کے فوجی انخلا کے بعد سے طالبان کی جانب سے ملک بھر میں حملے کئے جا رہے ہیں اور ملک کے ایک بڑے حصہ پر ان کا قبضہ ہو گیا ہے۔

ایئر پورٹ کے سربراہ مسعود پشتون نے اے ایف پی کو بتایا، "رات کے وقت ہوائی اڈے پر تین راکٹ داغے گئے۔ ان میں سے دو رن وے سے ٹکرا گئے۔ رن وے کی مرمت کا کام جاری ہے اور توقع ہے کہ اتوار سے ہوائی اڈہ پھر سے آپریشنل ہو جائے گا۔‘‘

کابل میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایک اہلکار نے راکٹ حملے کی تصدیق کی ہے۔ طالبان نے ہفتوں سے قندھار کے مضافات پر بار بار حملے کیے ہیں، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ باغی صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کرنے کی کگار پر ہیں۔


قندھار کا ہوائی اڈہ افغانستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر پر طالبان کا قبضہ ہونے سے روکنے کے لیے ضروری رسد اور فضائی مدد فراہم کرنے کے حوالہ سے انتہائی اہم ہے۔

افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا عمل شروع ہونے کے بعد سے طالبان لگاتار پیش قدمی کر رہے ہیں اور کئی شہروں پر قبضہ کر چکے ہیں۔ طالبان قندھار پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ابھی تک افغان فورسز کے کنٹرول میں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔