لاک ڈاؤن میں غریبوں کے لیے نعمت ثابت ہو رہا ’چاول کا اے ٹی ایم‘

ویتنام میں جگہ جگہ لگے رائس اے ٹی ایم کی تصویریں سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں جس میں نظر آ رہا ہے کہ ضرورت مند افراد تھیلا یا پالیتھین لے کر آتے ہیں، بٹن دباتے ہیں اور چاول لے کر چلے جاتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس یعنی کووڈ-19 کے انفیکشن پر کنٹرول کے لیے دنیا کے کئی ممالک میں اس وقت لاک ڈاؤن جاری ہے۔ اس لاک ڈاؤن کے درمیان سب سے زیادہ پریشانی غریبوں کو ہو رہی ہے جو کھانے پینے کے لیے محتاج ہیں۔ ہندوستان میں بھی غریب اور دہاڑی مزدور لاک ڈاؤن میں کھانے کے لیے ترستے ہوئے نظر آئے۔ لیکن غربت و افلاس کی زندگی گزارنے والے لوگوں کی پریشانی کا حال نکالتے ہوئے ویتنام میں ایک بہترین تجربہ کیا گیا ہے جس کی پوری دنیا میں تعریف ہو رہی ہے۔ لاک ڈاؤن کے درمیان غریبوں میں چاول کی تقسیم کے لیے جگہ جگہ 'رائس اے ٹی ایم' لگا دیئے گئے ہیں۔ یعنی ایک ایسا اے ٹی ایم جس کا بٹن دبانے پر چاول نکلتا ہے۔

ویتنام میں لگے اس رائس اے ٹی ایم کی کئی تصویریں سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں جس میں نظر آ رہا ہے کہ ضرورت مند افراد تھیلا یا پالیتھین لے کر آتے ہیں، بٹن دباتے ہیں اور چاول لے کر چلے جاتے ہیں۔ اس درمیان لوگ آپس میں سوشل ڈسٹنسنگ کا بھی مکمل خیال رکھ رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ رائس اے ٹی ایم چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے اور اس مشین سے ضرورت مند و غریب لوگ مفت میں چاول نکال کر لے جاتے ہیں۔

میڈیا ذرائع میں آ رہی خبروں کے مطابق ویتنام کے ایک بزنس مین ہوانگ توان نے 'رائس اے ٹی ایم' لگانے کی پیش قدمی کی تاکہ لاک ڈاؤن میں ضرورت مندوں کی مدد کی جا سکے۔ یہ پیش قدمی کئی جگہوں پر کامیاب ثابت ہو رہی ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگار ہوئی ایک ویتنامی خاتون گوین تھی لے نے رائس اے ٹی ایم کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ "یہ کافی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ چاول کا ایک بیگ ایک دن کے لیے کافی ہوتا ہے۔ تین بچوں کی ماں گوین کا کہنا ہے کہ ہمیں تھوڑا کھانے کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے پڑوسی کبھی کبھی ہمیں کچھ بچا ہوا کھانا دے دیتے ہیں، ورنہ ہم نوڈلس کھا کر گزارہ کر لیتے ہیں۔"

سوشل میڈیا پر رائس اے ٹی ایم کے تعلق سے کئی تصویریں اور خبریں پوسٹ کی جا رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ رائس اے ٹی ایم سے ڈیڑھ کلو سے لے کر تین کلو تک چاول نکلتا ہے۔ یہ اے ٹی ایم خاص کر ان لوگوں کے لیے مددگار ثابت ہو رہا ہے جو لوگ سڑکوں پر سامان فروخت کرنے، ہاؤس کیپنگ، لاٹری ٹکٹ وغیرہ فروخت کر کے پیسے کماتے ہیں، لیکن لاک ڈاؤن میں وہ بے روزگار ہو گئے ہیں۔

Published: 14 Apr 2020, 7:11 PM