چین میں صرف مسلمانوں کے گھروں پر ’کیو آر کوڈ‘ کے ذریعہ نظر کیوں ؟

مسلمانوں کے گھروں پر کیو آر کوڈ سے نظر رکھنے کی بات کا انکشاف ہونے پر چینی حکومت نے صفائی پیش کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’اس کوڈ کے ذریعہ مردم شماری اور مسلمانوں کو مدد پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔‘‘

چین میں مسلمانوں کو پریشان کیے جانے اور خصوصی طور پر اوئیگر مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ لگاتار سامنے آ رہا ہے، اور اب ایک نیا معاملہ منظر عام پر آیا ہے کہ مسلمانوں کے گھروں کے باہر چینی حکومت نے ’کیو آر کوڈ‘ لگا رکھا ہے۔ اس کوڈ کے ذریعہ وہ ان کی ہر طرح کی سرگرمی پر نظر رکھ رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نام کے ادارہ نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق یہاں اوئیگر مسلمانوں کے گھر میں گھسنے سے پہلے افسران گھر کے باہر لگے کیو آر کوڈ کو موبائل سے اسکین کرتے ہیں۔ اسمارٹ ڈور پلیٹس کو اپنے موبائل کے ذریعہ اسکین کر افسران اوئیگر مسلمانوں کی ذاتی جانکاریاں اور ان کے رہن سہن کے بارے میں پوری معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔

اس رپورٹ میں ایچ آر ڈبلیو کے ڈائریکٹر صوفی رچرڈسن کا کہنا ہے کہ چین کی حکومت بڑے پیمانے پر اوئیگر مسلمانوں کے حقوق انسانی کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ یہ بات پہلے ہی ظاہر ہو چکی ہے کہ شن ژیانگ علاقہ میں دہائیوں سے ان مسلمانوں کے خلاف نئی نئی پابندیاں عائد ہو رہی ہیں اور ان کے مذہبی پروگرام پر روک بھی لگائے جا رہے ہیں۔ ان مسلمانوں کو منمانے طریقے سے حراست میں بھی لیا جاتا رہا ہے۔ چونکہ یہ علاقہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے، اس لیے چینی حکومت کا ظلم ان پر کچھ زیادہ ہی ہے۔

ایچ آر ڈبلیو کے ذریعہ جب مسلمانوں کے گھروں پر کیو آر کوڈ کے ذریعہ نظر رکھے جانے کی بات کا انکشاف ہوا تو چینی حکومت نے اس سلسلے میں صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس کوڈ کے ذریعہ مردم شماری اور مسلمانوں کو مدد پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔‘‘ لیکن ایک اوئیگر مسلمان نے ایچ آر ڈبلیو کو بتایا کہ سال 2017 سے مسلمانوں کے گھر کے باہر کیو آر کوڈ لگانے کا کام چل رہا ہے۔ ہر کچھ دن پر یہاں افسران آتے ہیں اورکیو آر کوڈ کو اسکین کرتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں وہ گھر کے اندر گھس کر پوچھ تاچھ کرتے ہیں کہ یہاں کتنے لوگ رہتے ہیں؟ اگر گھر میں کوئی مہمان موجود ہو تو وہ ان سے بھی پوچھ تاچھ کرتے ہیں کہ وہ یہاں کس لیے آئے ہیں!

شن ژیانگ علاقہ کے کچھ مسلمان اب اپنا گھر چھوڑ کر کسی دوسرے مقام پر بھی رہنے لگے ہیں۔ ان میں سے ایک نے بتایا کہ جب کبھی اوئیگر مسلمان پاسپورٹ کے لیے درخواست دیتے ہیں تو چینی افسر بایو میٹرک ڈاٹا بھی جمع کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان سے ڈی این اے سیمپل اور ان کی آواز کے نمونے بھی لیے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک خاتون نے یہاں تک کہا کہ چینی افسران آواز کے نمونے حاصل کرنے کے لیے تعلیم یافتہ مسلمانوں کو اخبار پڑھنے کے لیے کہتے ہیں اور جنھیں پڑھنا نہیں آتا انھیں وہ گانا گانے یا پھر کوئی کہانی سنانے کے لیے کہتے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ اس حکم پر آپ ان سے بحث بھی نہیں کر سکتے۔ کچھ اوئیگر مسلمان بتاتے ہیں کہ یہاں کے تھانوں میں پوچھ تاچھ کے دوران ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ کچھ دور چل کر دکھائیں۔ اس کے ذریعہ چینی افسران ان کی چلنے کی رفتار کو ریکارڈ کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ یونائٹیڈ اسٹیٹس کے حقوق انسانی محکمہ نے اگست کے مہینے میں کہا تھا کہ چین میں الگ الگ کیمپ چلائے جا رہے ہیں جن میں اوئیگر مسلمانوں کو زبردستی یہاں کی سیاسی تعلیم دی جاتی ہے اور ان کا برین واش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ چینی حکومت ان باتوں سے انکار کر چکی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیمپوں میں مسلمانوں کے لیے ٹریننگ سنٹر چلائے جاتے ہیں تاکہ انھیں روزگار مل سکے۔

سب سے زیادہ مقبول