ایران میں عوامی احتجاج میں شدت، سپریم لیڈر کا فسادیوں کو ان کی جگہ دکھانے کا اعلان
ملک میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں پر اپنے پہلے عوامی ردعمل میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ مظاہرین کے مطالبات کو سنا جا سکتا ہے لیکن فسادیوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

ایران میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہروں کے درمیان مملکت کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای نے سخت پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین اور فساد کرنے والوں میں فرق ہے اور فسادیوں کو ان کی جگہ دکھانی ہوگی۔ خامنہ ای کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور حالات بدستور خراب ہوتے جا رہے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں پر ہفتہ کے روز اپنے پہلے عوامی ردعمل میں واضح طور پر کہا کہ مظاہرین کے مطالبات کو سنا جا سکتا ہے لیکن فسادیوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور انہیں ان کی جگہ پر رکھا جانا چاہیے۔ تہران میں ایک تقریب کے دوران آیت اللہ خامنہ ای کی تقریرسرکاری ٹی وی پر نشر کی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ ہم مظاہرین سے بات کرتے ہیں اورحکام کو بھی ان سے بات کرنی چاہیے لیکن فسادیوں سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، فسادیوں کو ان کی جگہ دکھانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے بارے میں ٹرمپ کے دعوے سے آیت اللہ علی خامنہ ای برہم
غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہروں میں اب تک کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ مظاہرے بنیادی طور پر ملک کی خراب معاشی صورتحال، ریال کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے۔ تاہم حکومت مخالف نعرے آہستہ آہستہ سننے کو مل رہے ہیں۔ کہاں جارہا ہے ملک کے 90 شہروں اور قصبوں میں اس طرح کا احتجاج کیا جا رہا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ موجودہ مظاہروں کے پیچھے غیر ملکی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک ان ہنگاموں کو ہوا دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ، جو دشمن کی طرف سے اکسائے گئے یا پیسے دے کر کھڑے کئے گئے، کچھ لوگ تاجروں اوردکانداروں کے درمیان گھس کراسلام، ایران اوراسلامی جمہوریہ کے خلاف نعرے لگوا رہے ہیں۔ یہ سب سے سنگین معاملہ ہے۔
خامنہ ای نے ایران کی معیشت اور ریال کی کمزوری کے لیے ’دشمن‘ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے خلاف شدید حملہ کیا اورکہا کہ امریکہ کو خطے سے جانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کے عزم کے ساتھ امریکہ کو اس علاقے سے جانا پڑے گا اور وہ جائے گا۔ ان مظاہروں کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے پرامن مظاہرین کو پرتشدد طریقے سے دبایا تو امریکا ان کی مدد کے لیے آئے گا۔ ٹرمپ کے بیان پر ایرانی قیادت میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایرانی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر ٹرمپ کی دھمکیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہیں ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا کہ امریکی مداخلت پورے خطے میں افراتفری پھیلانے اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔