مذاہب کے ذریعے حصولِ امن ممکن: جرمن صدر

جرمن صدر نے جرمن شہر لنڈاؤ میں جاری کانفرنس ’مذاہب برائے امن‘ سے خطاب میں کہا کہ مذاہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا مگر ان میں امن کے خواب کو شرمندہء تعبیر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ڈی. ڈبلیو

بین الاقوامی کانفرنس 'مذاہب برائے امن‘ کے دوران اپنے افتتاحی خطاب میں جرمن صدر اشٹائن مائر نے کہا، ’’مذہبی اعتقاد زبردست امکانات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ ایک قوت جس سے کوئی فرد اپنی پوری زندگی کو جہت دے سکتا ہے۔ مگر مذاہب کا غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ سیاسی مقاصد اور غیر مذہبی اہداف کے حصول کے لیے مذاہب استعمال بھی کیے جا سکتے ہیں۔‘‘ جرمن صدر نے زور دیا کہ بین الاقوامی سطح پر مختلف مذاہب کے درمیان مکالمت مختلف معاشروں میں امن کے قیام کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

اس بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا کے سو سے زائد ممالک اور دس بڑے مذاہب سے تعلق رکھنے والے کم از کم نو سو افراد مدعو ہیں۔ یہاں مذہبی رہنماؤں اور امن کے لیے کام کرنے والی تنظمیوں کے علاوہ اقوام متحدہ کے بین المذاہب رابطوں اور امن سے متعلق اہلکار بھی شریک ہیں۔

اس چار روزہ کانفرنس میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد مختلف مذاکروں میں شریک ہیں، جن میں امن کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر توجہ مرکوز ہے۔ 'مذاہب برائے امن‘ کانفرنس کا یہ دسواں بین الاقوامی اجتماع ہے۔ اس کانفرنس کا تصور اہم مذاہب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کی جانب سے سن 1961 میں پیش کیا گیا تھا جب کہ اس سلسلے میں پہلی بین الاقوامی کانفرنس سن 1971 میں جاپانی شہر کیوٹو میں منعقد ہوئی تھی۔

رواں برس لنڈاؤ شہر میں منعقدہ اس کانفرنس کا مرکزی موضوع 'مشترکہ مستقبل کی دیکھ بھال‘ ہے۔

پاکستان سے اس کانفرنس میں شریک جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا کہ اسلام بین المذاہب ہم آہنگی کا درس دیتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ مذہب کی من مانی تشریحات کے بجائے، اسے کردار کی تعمیر اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔

اس کانفرنس میں مختلف موضوعات پر گفت گو کے ساتھ ساتھ دنیا کے مذہبی یا مسلکی بنیادوں پر تنازعات کے شکار خطوں سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں کے درمیان مکالمت کی سیشنز بھی ہوئے، جن میں عراق، جنوبی سوڈان اور میانمار جیسے ممالک شامل تھے۔ ان مذاکروں میں مذہبی رہنماؤں کے درمیان گفت گو میں بقائے باہمی کے اصول کے تحت امن کے حصول کی راہ ہم وار کرنے پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔

لنڈاؤ شہر میں 'امن کے چھلے‘ کے نام سے لکڑی کا ایک ڈھانچا بھی قائم ہے۔ جس میں دنیا کے مختلف خطوں سے لکڑی استعمال کی گئی ہے، جو ایک طرف تو تنوع کی علامت ہے جب کہ ساتھ ہی تمام انسانوں کے درمیان باہمی تعلق کی بھی آئینہ دار ہے۔ اس کانفرنس کے موقع پر مختلف ممالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں کو بھی اس چھلے کے قریب ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا کیا جا رہا ہے، تاکہ دنیا بھر میں مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور امن کی ترویج کے آفاقی پیغام کو عام کیا جائے۔

Published: 21 Aug 2019, 10:10 PM