مقبوضہ کشمیر میں تشدد کے بعد پاکستان حکومت کی مشکلات بڑھیں، ڈیوٹی پر جانے سے پولیس جوانوں کا انکار

پاکستانی حکومت کے دستاویز کے مطابق پولیس کے جوان کشمیر اور گلگت میں تعیناتی ملنے کے باوجود ڈیوٹی جوائن نہیں کر رہے ہیں۔ اب پاکستانی حکومت نے ایسے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پاکستان میں تشدد، علامتی تصویر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

پاکستان کا مقبوضہ کشمیر (پی او کے) ایک بار پھر پُر تشدد دھرنے اور مظاہرے کے سبب سلگ اٹھا ہے۔ یہاں حالات پر قابو پانے میں پاکستانی  پولیس ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ اس دوران پاکستان حکومت کی پریشانی اس وقت مزید بڑھ گئی جب پولیس کے جوان یہاں ڈیوٹی کرنے سے انکار کرنے لگے۔ یہ انکشاف حکومت کے ایک دستاویز سے ہوا ہے۔ اس کے مطابق پولیس کے جوان کشمیر اور گلگت میں تعیناتی ملنے کے باوجود ڈیوٹی جوائن نہیں کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے ایسے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔

مقامی اخبار ’ڈان‘ کے مطابق پیر کو پی او کے میں ڈیوٹی پر نہ جانے والے ایک پولیس اہلکار کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں محکمہ پولیس اب تفصیلی فہرست تیار کر رہا ہے۔ آنے والے وقت میں قانون بنا کر ایسے پولیس اہلکاروں کو ایک ساتھ نوکری سے نکالنے کی تیاری ہے۔ پی او کے سے دوری بنانے کی ایک اہم وجہ جان کا خطرہ ہے۔ پی او کے اس وقت جل رہا ہے۔ وہاں پر لوگ سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ ان حالات میں پیر کے روز 4 پاکستانی پولیس اہلکار مارے گئے جب کہ پولیس فائرنگ میں 7 عام شہریوں کی بھی جان چلی گئی۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان  خونریز جھڑپ میں سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ گزشتہ 2 برس میں یہ تیسرا موقع ہے جب پی او کے میں بڑا تشدد  پھوٹ پڑا ہے۔ یہاں جان کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔  


واضح رہے کہ پی او کے اور گلگت میں تنخواہ اور الاؤنس پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے کافی کم دیئے جا رہے ہیں۔ اسی بات کو لے کر 2025 میں 11 ہزار پولیس اہلکار سڑکوں پر اتر آئے تھے۔ ان پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ 2022 کی پے اسکیل نافذ ہونے کے بعد بھی انہیں 2012 کے حساب سے پیسے دیئے جارہے ہیں۔ ’کشمیر انگریزی‘ کی رپورٹ کے مطابق تنخواہ بھی پولیس اہلکاروں کی ناراضگی کی ایک اہم وجہ ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ایک کانسٹیبل کی ماہانہ تنخواہ 73 ہزار پاکستانی روپے ہے۔ اسی طرح سندھ میں تنخواہ کے طور پر ماہانہ  69 ہزار پاکستانی روپے ملتے ہیں۔ وہیں پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ایک کانسٹیبل کی تنخواہ ماہانہ 15,899 پاکستانی روپے ہے۔

یاد رہے کہ 48-1947 کے دوران کشمیر کے کچھ حصوں پر پاکستان نے قبضہ کر لیا تھا جسے پاکستان مقبوضہ کشمیر کہا جاتا ہے۔ اس کا علاقائی رقبہ تقریباً 13,300 مربع کلومیٹر ہے۔ پاکستان نے اسے یونین ٹیریٹری بنا رکھا ہے۔ یہاں پراس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ پاکستانی حکومت پی او کے میں انتخابات کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس انتخاب سے عین قبل وہاں کے لوگ سراپا احتجاج ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ پی او کے اسمبلی میں مہاجر کشمیریوں کے لیے جو 12 سیٹیں ریزرو ہیں، اسے ختم کیا جائے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔