شام: 8 سالہ جنگ میں ایک لاکھ سے زائد افراد گرفتار، اغوا اور لاپتہ!

روزمیری نے سیکورٹی کونسل کو بتایا کہ اقوام متحدہ ایک لاکھ سے زائد افراد کے اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کرسکتا کیونکہ وہ شام میں حراستی مراکز اور قیدیوں تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

اقوام متحدہ: سربراہ برائے سیاسی پناہ گزین نے کہا ہے کہ رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شام کے 8 سالہ تنازع کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد گرفتار، اغوا یا لاپتہ ہو گئے، جس کی بنادی طور پر حکومت ذمہ دار ہے۔

امریکی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی سیاسی سربراہ روزمیری ڈی کارلو نے اقوام متحدہ کی جانب سے جون میں دنیا بھر میں تنازعات کے دوران لاپتہ ہزاروں افراد پر توجہ مرکوز کرنے سے متعلق متفقہ طور پر منظور ہونے والی پہلی قرارداد کے بعد میں ایک اجلاس سے خطاب کیا۔

اقوام متحدہ کی عہدیدار نے تمام سیاسی پرٹیوں سے سیکورٹی کونسل کے اس مطالبہ پر توجہ دینے پر زور دیا، جس میں تمام زیرحراست افراد کو رہا کرنے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ان کی معلومات اہل خانہ کو فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔ انہوں نے سیکورٹی کونسل کو بتایا کہ اقوام متحدہ ایک لاکھ سے زائد افراد کے اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کرسکتا کیونکہ وہ شام میں حراستی مراکز اور قیدیوں تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معلومات شام سے متعلق اس تحقیقاتی کمیشن کے تصدیق شدہ اکاؤنٹس سے موصول ہوئی ہے، جس کمیشن کو 2011 میں شروع ہونے والے اس تنازع کے بعد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے منظور کیا گیا تھا۔