اوپیک پلس ممالک کا تیل پیداوار کوٹہ بڑھانے کا فیصلہ، عالمی منڈی کو مستحکم رکھنے کی کوشش
سعودی عرب، روس اور دیگر ممالک نے جون سے یومیہ 188000 بیرل تیل پیداوار بڑھانے کا اعلان کیا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھا جا سکے

سعودی عرب، روس اور اوپیک پلس کے دیگر رکن ممالک نے تیل کی پیداوار کے کوٹے میں اضافہ کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے، جسے عالمی تیل منڈی میں استحکام برقرار رکھنے کی ایک منظم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے تحت 7 بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک جون کے مہینے سے یومیہ 188000 بیرل اضافی تیل پیدا کریں گے۔ اس پیش رفت کو ایسے وقت میں سامنے لایا گیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال نے عالمی توانائی منڈی کو غیر یقینی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے۔
اوپیک پلس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم اجتماعی ذمہ داری کے تحت اٹھایا گیا ہے تاکہ تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کو روکا جا سکے اور عالمی معیشت کو ممکنہ جھٹکوں سے بچایا جا سکے۔ بیان کے مطابق موجودہ حالات میں منڈی کو مستحکم رکھنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ کسی بھی غیر متوقع تبدیلی سے توانائی کے شعبے کے ساتھ ساتھ دیگر اقتصادی شعبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات نے اچانک اوپیک سے علیحدگی کا اعلان کیا، جس نے عالمی سطح پر سوالات کو جنم دیا کہ آیا یہ اتحاد برقرار رہ سکے گا یا نہیں۔ تاہم تازہ اقدام سے یہ واضح پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اوپیک پلس اتحاد اب بھی فعال اور مستحکم ہے اور اس کے اہم رکن ممالک مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے ہونے والی آن لائن میٹنگ میں الجزائر، عراق، قازقستان، کویت، عمان، روس اور سعودی عرب کے نمائندوں نے شرکت کی، جس کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس اعلامیے میں متحدہ عرب امارات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جو اس کے اتحاد سے نکلنے کے بعد ایک اہم سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پیداوار میں یہ اضافہ کوئی اچانک فیصلہ نہیں بلکہ پہلے سے متوقع قدم تھا، کیونکہ مارچ اور اپریل میں بھی اسی نوعیت کے اضافے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اس تسلسل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اوپیک پلس عالمی منڈی میں توازن برقرار رکھنے کے لیے مرحلہ وار حکمت عملی اپنا رہا ہے۔
ادھر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے توانائی کی عالمی سپلائی کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں دباؤ پیدا ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں پیداوار بڑھانے کا فیصلہ صارف ممالک کے لیے کسی حد تک ریلیف کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ پیدا کرنے والے ممالک کے لیے یہ ایک توازن قائم رکھنے کی کوشش ہے۔
اوپیک، جو کبھی 12 ممالک پر مشتمل ایک مضبوط اتحاد تھا، اب اپنی ساخت میں تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، تاہم حالیہ فیصلے سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اس کے بنیادی مقاصد اور اثر و رسوخ اب بھی برقرار ہیں اور عالمی توانائی سیاست میں اس کا کردار بدستور اہم ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
