عالمی خبریں

فرانس: گھوڑے کا گوشت فروخت کرنے پر ایک لاکھ یورو کا جرمانہ

پیرس کی ایک عدالت نے چار افراد کو یورپی ممالک میں گائے کے نام پر گھوڑے کا گوشت فروخت کرنے کے جرم میں دو برس تک قید کی سزا جبکہ ایک فرانسیسی کمپنی پر ایک لاکھ یورو کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

تصویر ڈی ڈبلیو ڈی

ڈی. ڈبلیو

دو فرانسیسی اور دو ڈچ شہری یورپ میں گھوڑے کے گوشت پر گائے کے گوشت کا غلط لیبل لگا کر فروخت کرنے کے مجرم قرار دے دیئے گئے ہیں۔ پیرس کی ایک عدالت نے مذکورہ مجرمان پر اشیائے خورد و نوش کے اسکینڈل میں ملوث ہونے کے نتیجے میں قید اور جرمانہ عائد کیا ہے۔

سن 2013 میں یورپ بھر میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ گائے کے گوشت کے لیبل کے ساتھ گھوڑے کا گوشت فروخت کیا جا رہا ہے۔ منظر عام پر آنے والے اس اسکینڈل کے مطابق گھوڑے کا گوشت کم قیمت میں بیلجیم، رومانیا اور کینیڈا سے درآمد کیا جاتا تھا اور بعد ازاں برطانیہ اور فرانس میں گائے کے گوشت کی قیمت پر فروخت کر کے منافع کمایا جاتا تھا۔

جنوبی فرانس میں واقع ایک مِیٹ پراسیسنگ کمپنی ’سپانغیرو‘ کے سابق ڈائریکٹر جیک پاژو کو دو سال قید اور ایک لاکھ یورو کا جرمانہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پر دو سال کے عرصے تک گوشت کی صنعت میں کام کرنے کی پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔ اسی کمپنی کے ایک مینیجر کو ایک سال کے لیے معطل بھی کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں 2012ء سے 2013ء کے دوران تقریباﹰ پانچ سو ٹن گوشت کو ’غلط لیبلنگ‘ کے ساتھ فروخت کیے جانے کے واقعے میں ملوث ڈچ تاجر یوہانیس فازن کو دو برس جیل اور ان کے ایک ساتھی کو ایک سال کی معطلی کی سزا دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں افراد ماضی میں اسی نوعیت کے دیگر جرائم میں بھی سزا یافتہ ہیں۔

اس اسکینڈل کے بعد جرمنی میں متعدد حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے تاکہ اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ مثال کے طور پر وفاقی اور صوبائی سطح پر اشیائے خورد و نوش میں دھوکا دہی روکنے کے لیے ایک انتظامی گروپ بھی تشکیل دیا گیا تھا۔