نیرو مودی کو ہندوستان لایا جائے گا، لندن کی عدالت نے حوالگی کو دی منظوری

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اگر نیرو مودی کو حوالگی کے ذریعے ہندوستان بھیجا جاتا ہے تو ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لندن: پی این بی گھوٹالہ کے کلیدی ملزم اور مفرور ہیرے کے کاروباری نیرو مودی کی عرضی لندن کی عدالت نے جمعرات کے روز مسترد کر دی۔ عدالت نے یہ کہتے ہوئے نیرو مودی کی حوالگی کو منظوری فراہم کر دی کہ ہندوستان کی عدلیہ جانبدار ہے۔

ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ کے منصف سموئل گوجی نے فیصلہ سناتے ہویے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ نیرو مودی کو ہندوستان میں متعدد سوالات کے جواب دینے ہیں۔ ہندوستان جانے پر اسے سزا سنائے جانے کے قومی امکان ہیں۔ جج نے یہ مزید کہا کہ نیرو مودی کے دیئے گئے بہت سے بیانات مماثل نہیں ہیں اور بادی النظر ثبوت نیرو مودی کے خلاف جاتے ہیں۔

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے مزید کہا یہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اگر نیرو مودی کو حوالگی کے ذریعے ہندوستان بھیجا جاتا ہے تو ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ ہندوستان کی عدلیہ غیر جانبدار ہے۔ عدالت نے نیرو کی ذہنی صحت سے متعلق دائر درخواست کو مسترد کر دیا۔

لندن کی عدالت کے اس فیصلے کے بعد نیرو مودی کو حوالگی کے ذریعے ہندوستان لانے کا راستہ صاف ہوگیا، حالانکہ اس کا فوری کوئی امکان نہیں ہے اور عدالت کے فیصلے کے خلاف نیرو مودی کے پاس اعلی عدالت میں جانے کا اختیار بھی ہوگا۔ فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پاس یورپی عدالت میں جا کر انسانی حقوق کے تعلق سے عرضی داخل کرنے کا بھی بھی اختیار ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔