امریکہ میں ایچ ون بی ویزا پروگرام ختم کرنے کے لیے نیا بل پیش
امریکی رکنِ کانگریس گریگ اسٹیوبی نے ایچ ون بی ویزا پروگرام ختم کرنے کے لیے نیا بل پیش کیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت 2027 سے ویزا کی تعداد صفر کرنے کی تجویز ہے، جس پر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے

واشنگٹن: امریکہ میں ایچ ون بی ویزا پروگرام کو ختم کرنے کے لیے ایک نیا بل پیش کیا گیا ہے۔ ریپبلکن رکنِ کانگریس گریگ اسٹیوبی نے اس قانون کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ ویزا نظام امریکی شہریوں کے بجائے غیر ملکی کارکنوں کو ترجیح دیتا ہے، جس سے مقامی ملازمین کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
مجوزہ قانون کا نام “اینڈنگ ایکسپلوئٹیٹو امپورٹڈ لیبر ایگزمپشنز ایکٹ” رکھا گیا ہے، جسے مختصراً “ایکسائل ایکٹ” کہا جا رہا ہے۔ اس بل کے ذریعے امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ایچ ون بی ویزا پروگرام کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
ایچ ون بی ویزا کے تحت امریکی کمپنیوں کو ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، طب اور مالیات جیسے خصوصی شعبوں میں غیر ملکی ماہرین کو ملازمت دینے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ پروگرام گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ میں ہنر مند پیشہ ور افراد کی آمد کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے، خاص طور پر ہندوستان اور چین جیسے ممالک کے شہریوں کے لیے۔
گریگ اسٹیوبی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی شہریوں کی خوشحالی کے بجائے غیر ملکی کارکنوں کو فوقیت دینا قومی مفادات کو کمزور کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایچ ون بی پروگرام کے باعث امریکی نوجوانوں اور کارکنوں کو روزگار کے مواقع سے محروم ہونا پڑ رہا ہے، جبکہ کمپنیوں اور بیرونی مسابقت کرنے والوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔
ان کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایچ ون بی ویزا حاصل کرنے والوں میں اسی فیصد سے زائد افراد ہندوستانی یا چینی شہری ہوتے ہیں اور اکثر کم عمر ملازمین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق سال 2027 سے ہر مالی سال میں ایچ ون بی ویزا کی تعداد صفر کر دی جائے گی، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ پروگرام عملاً ختم ہو جائے گا۔
ایچ ون بی ویزا اسکیم کا آغاز اس مقصد سے کیا گیا تھا کہ خصوصی مہارت رکھنے والے غیر ملکی ماہرین کو امریکی معیشت میں خدمات انجام دینے کا موقع دیا جائے۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ پروگرام روزگار، اجرت اور امیگریشن پالیسی سے متعلق سیاسی مباحث کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ نئے بل کی پیشی کے بعد اس معاملے پر ایک بار پھر بحث میں شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔