میانمار: بغاوت کے بعد ہونے والے احتجاج میں 230 سے ​​زیادہ افراد ہلاک

میانمار میں پولیٹیکل قیدی امدادی ایسوسی ایشن کے شہری حقوق کے گروپ نے جمعہ کے روز فیس بک پر لکھا کہ یکم فروری سے ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں پر کارروائی میں 230 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نیپڈا: میانمار میں بغاوت کے بعد 44 دنوں میں مظاہروں کے خلاف ہونے والی کارراوئی میں 230 سے ​​زیادہ افراد کی موت واقع ہو گئی ہے۔ میانمار میں پولیٹیکل قیدی امدادی ایسوسی ایشن کے شہری حقوق کے گروپ نے جمعہ کے روز فیس بک پر لکھا، "یکم فروری سے، ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں پر کارروائی میں 230 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔"

اس سے ایک دن پہلے، حقوق گروپ نے یہ تعداد 224 بیان کی تھا۔ گروپ نے بتایا کہ یہ اس کے پاس ریکارڈ شدہ ہلاکتوں کی تعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت میں یہ تعداد اور بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران 2330 افراد کو گرفتار کیا گیا۔


وہیں گزشتہ ہفتہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریس نے میانمار میں پر امن ڈھنگ سے مظاہرہ کرنے والوں کے ساتھ ہوئے تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ گوٹریس نے میانمار کے ہمسایہ ممالک سمیت عالمی برادری سے میانمار کے عوام اور ان کے جمہوری حقوق کے تئیں یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ غور طلب ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے تمام رکن ممالک نے بھی گزشتہ ہفتے ایک بیان جاری کرکے میانمار میں فوج کی کارروائی کی سخت مذمت کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔