میانمار زلزلہ: بارش، خانہ جنگی کے باعث امدادی کام متاثر

میانمار میں زلزلے کے بعد شدید بارشوں نے امدادی کام مشکل بنا دیا ہے۔ ملک میں جاری خانہ جنگی اور وسائل کی کمی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ اس صورتحال میں فوری بین الاقوامی مدد کی ضرورت ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

مدیحہ فصیح

میانمار میں جمعہ 28 مارچ کو دوپہر 12:50 پر 7.7 شدت والے طاقتور زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 3471 ہو گئی ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، 4671 افراد زخمی اور دیگر 214 ابھی تک لاپتہ ہیں۔ زلزلے کے بعد بارشوں نے راحت اور بچاؤ کے کاموں کے لیے چیلنج بڑھا دیا ہے۔ ہفتے کے آخر میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بارشوں سے امدادی سرگرمیاں اثرانداز ہوئیں اور بیماری کا خطرہ بڑھ گیا۔ امدادی اداروں نے خبردار کیا کہ غیر موسمی بارشوں اور شدید گرمی کی وجہ سے آسمان کے نیچے کھلے میں کیمپ لگانے والے زلزلہ زدگان میں ہیضہ سمیت دیگر بیماریاں پھیل سکتی ہیں، جب کہ اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ نے کہا کہ بے گھر ہونے والوں کو پناہ دینے کے لیے مزید خیموں کی ضرورت ہے۔ میانمار کے پڑوسیوں، جیسے ہندوستان، چین اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک نے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی سامان روانہ کیا ہے جہاں تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ افراد آباد ہیں۔ اس تباہ کن زلزلے کے بعد ریسکیو ادارے ایک ایسے ملک میں وسائل کے حصول کے لیے ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں جس میں اقتدار فوج کے ہاتھ میں ہے اور ملک خانہ جنگی کا شکار ہے۔

ایک مقامی باشندے کو زیار کے مطابق، جیسے ہی انہوں نے سڑک کو ہلتا ہوا محسوس کیا ، انہوں نے خستہ حال عمارتوں، بکھری ہوئی سڑکوں کے درمیان اپنے آبائی شہر ساگانگ کا رخ کیا، جو کہ ایک صدی میں میانمار میں آنے والے سب سے طاقتور زلزلے کا مرکز تھا۔ منڈالے سے عام طور پر دریائے اراواڈی کے پار کار کے ذریعے سفر میں 45 منٹ لگتے ہیں، لیکن زلزلے کے بعد کو زیار کو ٹوٹے ہوئے پلوں اور منہدم عمارتوں کی وجہ سے 24 گھنٹے لگے۔ انہوں نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے اپنے خاندان کو محفوظ پایا، لیکن ان کے بہت سے دوست مر چکے تھے اور قصبہ کا زیادہ تر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا تھا۔ ان کے چاروں طرف لوگ ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے تھے ۔ لاشوں کی بدبو نے قصبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اور رہائشی ان لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کر رہے ہیں۔ زندہ بچ جانے والے کھانے اور پانی کے لیے قطار میں کھڑے ہیں، اور بہت سے لوگ باہر چٹائیوں پر 37 ڈگری میں سو رہے ہیں کیونکہ وہ زلزلے کے بعد آنے والے جھٹکوں یا آفٹر شاکس سے خوفزدہ ہیں۔


زلزلے کی تباہی نے غریب جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں ایک تازہ بحران پیدا کر دیا ہے، جہاں چار سال کی خانہ جنگی کے بعد تقریباً 2 کروڑ افراد پہلے ہی انسانی امداد کی ضرورت میں تھے۔ عوام کے خلاف مظالم کی معتبر اور وسیع اطلاعات کے درمیان، میانمار کے فوجی رہنما من آنگ ہلینگ 2021 میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد جمہوریت کے حامی جنگجوؤں اور نسلی مسلح گروہوں کے خلاف کثیر محاذ جنگ لڑ رہے ہیں۔ برسوں کی جنگ نے زلزلے کا مؤثر جواب دینے کے لیے درکار مقامی وسائل اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کر دیا ہے، اور مبصرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد ملک کی فوجی حکومت غیر حاضر رہی ہے۔ میانمار کے لیے اقوام متحدہ کے سابق خصوصی نمائندے یانگھی لی نے سوال کیا، ’’من آنگ ہلینگ نے اپنے تمام فوجی اثاثے بچاؤ اور امداد کے لیے کیوں نہیں بھیجے؟... ہم صرف عام شہریوں کو ملبے میں کھودتے ہوئے دیکھتے ہیں۔‘‘

کیاو من کے مطابق، (جو شیڈو نیشنل یونٹی گورنمنٹ (این یو جی) کے ساتھ منسلک ہیں اور جاری جنگ میں اپنی حفاظت کے لیے فرضی نام استعمال کرتے ہیں) علاقائی دارالحکومت، ساگانگ قصبے کے تقریباً 80 فیصد حصے کو زلزلے میں نقصان پہنچا ہے اور آس پاس کی دیہی بستیوں میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ یہ جگہ موت کی وادی کی طرح لگتی ہے … جیسے شہر پر ایٹم بم سے بمباری کی گئی ہو۔ زلزلے نے قریبی منڈالے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس میں تقریباً 15 لاکھ افراد رہائش پذیر تھے۔ فوجی دارالحکومت نیپیڈاو، پڑوسی ممالک تھائی لینڈ اور چین میں بھی زلزلہ محسوس کیا گیا۔ واضح رہے کہ 2021 کے بعد میانمار کا ساگانگ خطہ فوج اور جمہوریت نواز "پیپلز ڈیفنس فورسز" کے درمیان ایک وسیع میدان جنگ بن گیا ہے۔


میانمار میں انسانی امداد کی فوری اور بلارکاوٹ رسائی یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ تباہ کن زلزلے کے بعد وہاں لاکھوں لوگوں کو ہنگامی مدد کی ضرورت ہے۔ زلزلے نے لوگوں کو پہلے سے درپیش تکالیف میں بڑے پیمانے پر اضافہ کر دیا ہے۔ زلزلے سے پہلے بھی ملک سیاسی ابتری، حقوق کی پامالیوں اور انسانی بحران کا سامنا کر رہا تھا لیکن اب وہاں لوگوں کے مسائل مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ان حالات میں متعدد محاذوں پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عالمی براری سے اپیل کی ہے کہ وہ میانمار میں ضروریات کے مطابق انسانی امداد کی فوری فراہمی یقینی بنائے۔

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق مجموعی طور پر ایک کروڑ 70 لاکھ لوگ زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں جن میں تقریباً 90 لاکھ کو شدید درجے کی تباہی کا سامنا ہے۔زلزلے میں 3471 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں مواصلات، بجلی اور پانی کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور متاثرین کو بنیادی ضروریات کی تکمیل میں کڑی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ امدادی ٹیمیں ان تک پہنچنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ملک کے بڑے شہر یانگون اور وسطی میانمار کے درمیان سڑک کو بھی زلزلے سے شدید نقصان پہنچا ہے جس کے باعث امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک رسائی کے لیے طویل فاصلہ اختیار کرنا پڑتا ہے جبکہ ہوائی اڈوں کو ہونے والے نقصان کے باعث جہازوں کے ذریعے امداد پہنچانا ممکن نہیں ہے۔

میانمار میں جاری خانہ جنگی بھی امدادی کارروائیوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگرچہ ملکی فوج اور اس کے مخالف مسلح گروہوں نے زلزلے کے بعد عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تاہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ ملک میں مستقبل بنیاد پر امن قائم ہونا چاہیے۔ انہوں نے ملک بھر میں زلزلے سے بری طرح متاثرہ لوگوں کو بلاتاخیر، محفوظ، بلارکاوٹ اور پائیدار طور سے مدد پہنچانے کی اپیل کرتے ہوئے تمام فریقین سے کہا ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ دینے کی ذمہ داری کو پورا کریں۔اس المناک وقت کو قیام امن اور ایسے سیاسی عمل کے آغاز کا سبب بننا چاہیے جس کے ذریعے تشدد کا خاتمہ ہو، سیاسی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے اور جمہوری حکمرانی کی جانب راہ ہموار ہو۔ چونکہ تمام شہری دکھ کی اس گھڑی میں متحد ہیں لہٰذا ملک کو درپیش سیاسی مسئلے کے حل کے لیے بھی متحد ہونے کا وقت ہے، جس سے وحشیانہ تنازع کے خاتمہ میں مدد مل سکے۔ انہوں نے جمہوریت کی بحالی کے ساتھ بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کی محفوظ، رضاکارانہ، باوقار اور پائیدار واپسی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ میانمار میں قیام امن کے لیے کوششیں اور مصیبت کی اس گھڑی میں وہاں کے لوگوں کی امداد جاری رکھے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔