فرزندانِ توحید انسانی زندگیوں کے تحفظ کے لیے باجماعت اور نماز جمعہ کی پابندی پرعمل کریں: جامعہ الازہر

جامعہ الازہر کے فتوے کے مطابق کورونا وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔ اسلامی شریعت کے عظیم مقاصد میں ایک زندگی کو بچانا اور تمام خطرات ونقصانات سے خود محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

جامعہ الازہر مصر کے علماء کی سپریم کونسل نے کورونا وائرس کے حوالے سے فتوٰی جاری کیا ہے جس میں فرزندان توحید پر زور دیا گیا ہے کہ وہ انسانی زندگیوں کے تحفظ کے لیے باجماعت اور نماز جمعہ کی پابندی کی حکومتی ہدایت پرعمل کریں۔

ادھر پاکستان کے جید علمائے کرام نے بھی بچوں، 50 سال سے زائد عمر کے بزرگوں اور بیمار افراد کو مساجد میں نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ جبکہ ہندوستان میں بھی متعدد علمائے کرام اور حکومت کی جانب سے ایسی اپیل کی گئیں ہیں۔ پاکستان کے صدر مملکت عارف علوی نے اسلام آباد میں متعین مصر کے سفیر کے توسط سے شیخ الازہر سے اس معاملے پر دینی تعلیمات کی روشنی میں رہنمائی کی درخواست کی تھی۔

جامعہ الازہر کے فتوے کے مطابق کورونا وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔ اسلامی شریعت کے عظیم مقاصد میں ایک زندگی کو بچانا اور تمام خطرات ونقصانات سے خود محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ علمائے کرام جامعہ الازہر کے مطابق ہر مسلمان ملک میں ریاستی عہدیداروں کو نماز باجماعت اور نماز جمعہ پر پابندی لگانے کی اجازت ہے، جبکہ معمر افراد گھروں پر رہیں، نماز باجماعت اور نماز جمعہ میں شرکت نہ کریں۔ جامعہ الازہر کے مطابق عوامی اجتماعات اس وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بنتے ہیں۔

درایں اثنا علامہ شہنشاہ نقوی، مولانا محمد سلفی اور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کا مسئلا شدت اختیار کرگیا ہے، اس وائرس نے پوری دنیا میں تباہی مچا دی ہے، اگر حفاظتی طور پر محتاط نہ رہا جائے تو زیادہ لوگ متاثر ہوں گے۔

مفتی اعظم تقی عثمانی نے کہا کہ مساجد میں نماز سے متعلق عوام میں ایک غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے۔ ہم نے تمام مکاتب فکرکے علماء کی مشاورت سے لائحہ عمل تیار کیا ہے اور ملک کے جید علماء نے اس سے اتفاق کیا جس کے بعد کورونا سے متعلق علمائے کرام نے متفقہ اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مساجد میں نابالغ بچے، 50 سال سے زائد االعمر اور بیمار افراد نہ آئیں۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مساجد میں باجماعت نماز جاری رہے گی، جن لوگوں کو ڈاکٹرز نے منع کیا ہے وہ گھروں میں نماز ادا کریں، جماعت گھر کی خواتین کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے اور جو حضرات مسجد میں نماز ادا کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے گھر میں وضو کریں اور سنتیں بھی گھر میں ادا کرکے آئیں، مساجد کے دروازوں پر سینیٹائزر لگائے جائیں اور مساجد کے اندر صفائی کا خاص اہتمام کیا جائے۔

مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ پورا عالم انسانیت اس وبا میں مبتلا ہے۔ اہل ایمان ظاہری اسباب کے ساتھ اللہ سے انفرادی اجتماعی رجوع کریں، صدق دل اور اخلاص کے ساتھ اللہ سے توبہ کریں، دینی اخلاقی قومی ملی ذمہ داری ہے کہ ریاست کے ساتھ تعاون کیا جائے، مساجد میں نماز جمعہ مختصر کی جائے، اور باقی نمازیں گھر میں محرم خاتون کےساتھ بھی ہوسکتی ہے۔

(العربیہ ڈاٹ نیٹ)