امریکہ میں ہلاک یہودیوں کے اہل خانہ کی مدد کے لیے مسلمانوں کی چندہ مہم

امریکی شہر پٹس برگ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہو جانے والے گیارہ یہودیوں کے رشتہ داروں کی مدد کے لیے مسلمانوں نے چندہ مہم شروع کی ہے۔ اس کا مقصد دونوں مذاہب میں ’محبت کی فضا‘ پیدا کرنا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ڈی. ڈبلیو

ہفتہ 20 اکتوبر کو امریکی ریاست پنسلوینیا کے شہر پٹس برگ کے ایک سیناگوگ یا یہودی عبادت گاہ کے قریب ہونے والے فائرنگ کے ایک واقعے میں کم از کم 11 یہودی ہلاک ہو گئے تھے۔ اب امریکی مسلمان گروپوں نے اس واقعے کے متاثرہ یہودیوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی ہے۔ ہلاک ہونے والے یہودیوں کے رشتہ داروں کے لیے ابھی تک ایک لاکھ ڈالر کی رقم جمع کر لی گئی ہے۔

کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے رقم اکٹھی کرنے کے لیے اس مہم کا پہلا ہدف پچیس ہزار ڈالر جمع کرنا تھا، جو مہم کے آغاز کے چھ گھنٹوں کے اندر ہی مکمل ہو گیا تھا۔ اس کے بعد پچاس ہزار ڈالر جمع کرنے کا ہدف بھی ایک روز بعد ہی مکمل ہو گیا اور اب ایک لاکھ ڈالر کا ہدف بھی پورا ہو گیا ہے۔

اس مہم کا آغاز امریکا کی ’سلیبریٹ مرسی‘ اور ’ایم پاور چینج‘ نامی دو مسلم تنظیموں نے کیا تھا۔ ان دونوں گروپوں کی طرف سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے، ’’ہم اپنے مذہب کی تعلیمات کے مطابق برائی کا جواب اچھائی سے دینا چاہتے ہیں۔ ہم اس عمل سے شفقت کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔‘‘ اس بیان کے مطابق جمع ہونے والی مالی امداد زخمیوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ہلاک ہونے والے یہودیوں کی تدفین کے لیے استعمال کی جائے گی۔

امریکا کی دو مسلم تنظیموں کی طرف سے جاری ہونے والے اس بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’اس مہم کے ذریعے ہمیں امید ہے کہ مسلم اور یہودی کمیونٹی کی طرف سے یہ مشترکہ پیغام جائے گا کہ امریکا میں نفرت اور تشدد کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘

ان مسلمان گروپوں کی طرف سے امریکا میں آباد یہودی کمیونٹی کے لیے سلامتی کی خواہشات کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔