امریکی کانگریس میں 181 سال قدیمی پابندی ختم، باحجاب مسلم رکن نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر اٹھایا حلف

مسلمان خواتین ارکان کانگریس راشدہ طلائب اور ’با حجاب‘ الہان عمر نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا، امریکی کانگریس میں سر ڈھانپ کر آنے پر عائد 181 سال قدیمی پابندی بھی ختم ہو گئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

واشنگٹن: امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں منتخب ہوکر پہلی مرتبہ کانگریس پہنچنے والی دو مسلمان خواتین راشدہ طلائب اور باحجاب الہان عمر نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا۔ اس کے ساتھ ہی 181 سال پرانی وہ پابندی بھی ختم ہو گئی جو امریکی کانگریس میں کسی شخص کے سر نہ ڈھانپنے کے سلسلہ میں تھی۔

37 سالہ الہان عمر نے ریاست منی سوٹا کے حلقے 5 جبکہ 42 سالہ فلسطینی نژاد راشدہ طلائب نے ریاست مشی گن کے حلقے 13 سے کامیابی حاصل کی ہے۔

37 سالہ الہان عمر نے حجاب پہن کر حلف اٹھایا، جس کی چیمبر میں گزشتہ 181 سال سے پابندی تھی۔ الہان عمر نے نومبر میں اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھا تھا کہ ’کوئی میرے سر پر اسکارف نہیں رکھ سکتا سوائے میرے، یہ میری مرضی ہے، میں اسکارف پر لگی پابندی کو ختم کرنے کے لیے کام کروں گی‘۔

دوسری جانب حلف برداری کی تقریب میں راشدہ طلائب نے فلسطین کا روایتی لباس ’تھوب‘ زیب تن کیا ہوا تھا۔ انہوں نے انسٹاگرام پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ لباس ٹخنے تک ہوتا ہے جو ان کی والدہ پہننے کی عادی تھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ’ٹوئٹ یور تھوب‘ کا ہیش ٹیگ لکھ کر سب کو اپنے ملبوسات کی تصاویر شیئر کرنے کو بھی کہا۔

راشدہ حلف برداری تقریب میں صرف اپنے لباس کی وجہ سے ہی توجہ کا مرکز نہیں بنیں بلکہ انہوں نے امریکا کے تیسرے صدر اور اعلان آزادی کو قلمبند کرنے کا اعزاز رکھنے والے تھامس جیفرسن کے استعمال کردہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا۔ واضح رہے کہ 1714 میں اس قرآن پاک کا ترجمہ کرکے اسے کانگریس کی لائبریری میں رکھا گیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکی کانگریس کے لئے منتخب ہونے والی الہان عمر سر پر حجاب پہنتی ہیں اور ان کا یہ عمل امریکی کانگریس کو منظور نہیں تھا۔ ایسی صورت میں وہ امریکی کانگریس کے ضابطوں میں تبدیلی کی خواہاں تھی۔ الہان کے منتخب ہونے کے بعد حجاب سے متعلق ایوان کے قواعد میں تبدیلی لازم ہو گئی تھی۔ ڈیموکریٹس کی جانب سے اس قانون ساز ادارے کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد الہان عمر کو اس حقیقت سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے قوانین کو تبدیل کرنا پڑی۔ دراصل امریکی ایوان میں مذہبی نوعیت کے حجاب اوڑھنے پر پابندی تھی اور ایسا نہیں ہے کہ الہان عمر وہ پہلی خاتون ہیں جنہیں اس مسئلہ کا سامنا رہا ہو، اس سے قبل بھی دو قانون سازوں کو اس مسئلہ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سنہ 2010 میں ڈیموکریٹ پارٹی کی ہی ایک خاتون رکن فریڈریکا ولسن کو اس قانون سے پریشانی ہوئی تھی۔ ولسن کا تعلق فلوریڈا سے ہےاور انھوں نے اُس وقت ایوان کے اسپیکر جان بینر سے اس قانون کو نظر انداز کرنے کے لیے کہا تھا، لیکن وہ اپنی کوشش میں ناکام ہوئی تھیں۔ ولسن رنگین اور مختلف قسم کے ہیٹ پہننے کے لیے مشہور رہی ہیں۔ اُنھوں نے ایوان کے اس اصول کو جنسی تعصب پر مبنی قرار دیا تھا اور اس کا تذکرہ روزنامہ ’میامی ہیرالڈ‘ سے بات چیت کے دوران بھی کیا تھا۔ اُنھوں نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ ’’اس ضابطے کا تعلق اُس دور سے ہے جب مرد ہیٹ (ایک خاص انداز کی ٹوپی) پہنا کرتے تھے، اور ہمیں پتہ ہے کہ اب مرد چہاردیواری کے اندر ہیٹ نہیں پہنتے، جب کہ خواتین گھروں کے اندر ہیٹ پہنتی ہیں‘‘۔ ایک دیگر معاملہ سنہ 2012 میں پیش آیا تھا جب الی نوائے سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ پارٹی کے نمائندے، بوبی رش کو ’ہُڈ‘ والی ’سویٹ شرٹ‘ پہننے پر محافظوں کی مدد سے ایوان سے باہر نکال دیا گیا تھا۔

جہاں تک حجاب سے متعلق قانون کا سوال ہے، تو یہ 181 سال قبل منظور ہوا تھا۔ اُس وقت قانون سازوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ’’ایوان کے اجلاس کے دوران ہر رکن کوئی اضافی لباس نہیں پہنے گا‘‘۔ اُس سے اُن کی مراد روایتی ٹوپی تھی جسے پہننا انیسویں صدی عیسوی میں عام رواج تھا۔ اس قانون کو نافذ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف کوئی امتیاز نہ ہو۔ گویا کہ ہیٹس اُن چند چیزوں میں شامل ہیں جن کے ایوان میں پہننے پر پابندی ہے۔ ایوان نمائندگان کے ضابطوں کے مطابق ایوان کے اندر سگریٹ، کھانا، مشروب اور سیل فون لانےپر ممانعت ہے۔

Published: 4 Jan 2019, 7:10 PM