تاریخ کے سب سے چیلنجنگ اولمپک کھیلوں کی کامیاب تکمیل

غیرمعمولی اولمپک کی افتتاحی تقریب کی طرح خالی اسٹیڈیم میں الوداعی تقریب کا انعقاد ہوا جس میں صرف ایتھلیٹ، ٹیم کے اہلکار، وی آئی پی اشخاص اورمیڈیا کے نمائندے موجود تھے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

تاریخ کے سب سے زيادہ چیلنج سے بھرے اولمپک کھیلوں کااتوارکے روز یہاں الوداعی تقریب کے ساتھ کامیاب اختتام ہوگیا۔ 67 ہزار شائقین کی گنجائش والے اسٹیڈیم میں شائقین کے بغیر غیرمعمولی ٹوکیواولمپک کھیلوں کا اختتام ہوا۔

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی اوسی) کےصدر تھامس باک نے الوداعی تقریب میں کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس بے حد مشکل وقت میں ہم سب جی رہے ہیں اوران سب کے درمیان دنیا کوامید کی کرن دکھائی ہے اوراب میں ٹوکیو میں سب سے چیلنجنگ اولمپک سفرکے اختتام کااعلان کرناچاہتا ہوں۔ میں 32 ویں اولمپیاڈ کو ختم کرنے کااعلان کرتا ہوں۔ یہ کھیل امن، اتحاد اورامید کی علامت تھے۔ اب آپ سب سے پیرس میں ملاقات ہوگی۔


اس غیرمعمولی اولمپک کی افتتاحی تقریب کی طرح خالی اسٹیڈیم میں الوداعی تقریب کا انعقاد ہوا جس میں صرف ایتھلیٹ، ٹیم کے اہلکار، وی آئی پی اشخاص اورمیڈیا کے نمائندے موجود تھے۔ ایتھلیٹ سخت بائیو سیکیور ماحول میں کھیل گاوں میں رہے تھے اورانہیں کھانے، سونے اور مقابلہ کرنے کے علاوہ ہروقت ماسک لگانا تھا۔

اختتامی تقریب میں کھلاڑیوں کی پریڈکے دوران ہندوستانی دستے کی قیادت 65 کلوگرام فری اسٹائل زمرے میں کانسے کا تمغہ جیتنے والے پہلوان بجرنگ پونیانے کی۔باک کے اولمپک کو ختم کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی اولمپک کاپرچم 2024 پیرس اولمپک کے میزبان فرانس کو سونپ دیا گیا۔ اولمپک کھیلوں کے اختتام کے ساتھ اولمپک مشعل کو بجھادیا گیا لیکن ٹوکیو 2020 میں نظرآئے کھیل جذبات اس میں حصہ لینے والے ایتھلیٹوں اوراسے دیکھنے والوں کے دلوں میں جلتی رہے گی۔اختتامی تقریب کے بعد اسٹیڈیم کے چاروں جانب آتش بازی سے آسمان جگمگااٹھا اوراسٹیڈیم میں لکھاآیا اریگاتویعنی شکریہ۔واضح رہے ہندوستان کے لئے بھی یہ اولمپک تاریخی رہے کیونکہ ہندوستان نے اس اولمپک میں اب تک سب سے زیادہ سات تمغے حاصل کئے اور پہلی مرتبہ ایتھلیٹکس میں گولڈ کا تمغہ حاصل کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔