مراکش: ’لڑکیوں کے کنوارے پن کا ٹیسٹ ایک طرح کی جنسی زیادتی‘

مراکش کے دیہی علاقوں میں لڑکیوں کے کنوارے پن کا ٹیسٹ کا رواج عام ہے۔ اب مراکش کی نوجوان خواتین نے اس رسم کے خلاف ایک مہم شروع کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ ٹیسٹ ایک طرح کی جنسی زیادتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ڈی. ڈبلیو

مریم 24 برس کی ہے۔ اس طرح وہ اپنے ملک مراکش میں شادی کی عمر کو پہنچ چکی ہے۔ کچھ ہی عرصے میں اس کی شادی ہو جائے گی اور پھر کسی مرد کے ساتھ اس کا پہلی مرتبہ جنسی رابطہ ہوگا۔ مریم کو اس سے خوف آتا ہے۔ ایک نوجوان لڑکی ہونے کے ناطے مریم کو مجبور کیا گیا کہ وہ ایک دائی کے پاس جا کر اپنے کنوارے ہونے کی تصدیق کروائے۔

مریم کے مطابق یہ ٹیسٹ بربریت کی ایک مثال ہے، ’’انتہائی تکلیف دہ۔ اس سے ایک انسان اور ایک خاتون کے طور پر میرا وقار مجروع ہوا ہے۔‘‘

اس کے بقول مراکش کے دیہی علاقوں میں لڑکیوں کے کنوارے پن کا ٹیسٹ ایک عام سی بات ہے۔ متعدد نوجوان لڑکیوں کو اس تکلیف دہ تجربے سے گزرنا پڑتا ہے۔ انکار پر تو زبردستی انہیں روایتی دائی کے پاس لایا جاتا ہے۔ ان دائیوں کے پاس اکثر طب کی تعلیم بھی نہیں ہوتی۔ اہم ترین بات صرف یہ ہے کہ متعلقہ لڑکی کے اہل خانہ کو صرف دائی پر ہی بھروسہ ہے۔

کنوارے پن کی تصدیق کے ٹیسٹ کے بعد مریم ’’مائی وجائنا از مائن‘‘یعنی’’میری اندام نہانی میری ہے‘‘ نامی ایک تحریک میں شامل ہو گئیں۔ مریم کے بقول، ’’جنسی زیادتی کی بدترین شکل وہ ہوتی ہے، جب کسی نوجوان خاتون سے اس کی جنسی خود مختاری کا حق بھی چھین لیا جائے۔‘‘

مکناس نامی علاقہ الاطلس پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔ یہاں ایک بزرگ خاتون رہتی ہیں۔ انہیں بہت ہی فیض یاب سمجھا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ خاتون یہ تصدیق کرتی ہیں کہ لڑکی ابھی تک کنواری ہے یا نہیں۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے اس ’فیض یاب‘ خاتون نے بتایا، ’’ مجھ پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ میرے پاس بہت سے خاندانوں کے راز ہیں۔ یہ میرے دل میں ہی دفن رہیں گے کیونکہ اس کا تعلق کنوارے پن سے ہے یعنی ’غیرت‘ سے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کا طریقہ کار نہ تو تکلیف دہ ہے اور نہ ہی قدیم۔ وہ قدرتی اشیاء استعمال کرتی ہیں تاکہ کوئی نازک حصہ زخمی نہ ہو، ’’پردہ بکارت کی موجودگی کی تصدیق کے لیے وہ انڈوں کا استعمال کرتی ہیں۔ اکثر لڑکیاں اپنے ہاتھوں سے یہ عمل کرتی ہیں۔‘‘

’مائی وجائنا از مائن‘ نامی مہم میں شامل خواتین کنوارے پن کے ٹیسٹ کی رسم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اس طرح نوجوان لڑکیوں کی جنسی آزادی اور انسانی وقار کو مجروح کیا جاتا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم سے وابستہ سارہ العونی کہتی ہیں کہ اس مہم کا مقصد کسی نہ کسی انداز سے جنسی زیادتی کا شکار بننے والی اور اس موضوع پر بات کرنے کی ہمت نہ رکھنے والی تمام خواتین کو آگاہی مہیا کرنا اور اعتماد پیدا کرنا ہے۔‘‘