یمن: آرمی کیمپ میں مسجد پر میزائل حملہ، 100 سے زائد فوجی ہلاک

ایران حامی حوثی باغی اور سعودی عرب کی قیادت والے فوجی اتحاد حامی یمن حکومت کے درمیان جاری جنگ میں کچھ مہینوں کے بہتر ماحول کے بعد ہفتہ کے روز یہ حملہ ہوا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

یمن کے مارب واقع فوجی کیمپ میں ایک مسجد پر میزائل حملہ کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس حملہ میں کم از کم 100 افراد کی جان چلی گئی ہے اور سینکڑوں زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ ہفتہ کے روز کا بتایا جا رہا ہے اور فوجی ذرائع نے اس سلسلے میں اتوار کے روز بتایا کہ میزائل اور ڈرون حملہ میں فوجی جوان بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے لیے حوثی باغیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔

ایران حامی حوثی باغی اور سعودی عرب کی قیادت والے فوجی اتحاد حامی یمن حکومت کے درمیان جاری جنگ میں کچھ مہینوں کے بہتر ماحول کے بعد ہفتہ کے روز یہ حملہ ہوا۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ حوثی باغیوں نے فوج کے مشرق میں تقریباً 170 کلو میٹر دور مارب میں شام کو نماز کے دوران ایک فوجی کیمپ میں مسجد پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو مارب شہر کے ایک اسپتال لے جایا گیا ہے۔ اسپتال کے ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں 83 فوجی مارے گئے ہیں جب کہ 148 زخمی ہوئے ہیں۔


فوجی کیمپ واقع مسجد پر حملہ سے ٹھیک ایک دن پہلے اتحاد حامی سرکاری فورسز نے فوج کے شمال میں واقع ناہم علاقے میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک بڑی مہم چلائی تھی۔ ایک فوجی ذرائع نے بتایا کہ ناہم میں جدوجہد اتوار کو بھی جاری رہی۔ اس درمیان ذرائع نے کہا کہ ’’(حوثی) ملیشیا کے درجنوں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔‘‘

بہر حال، یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے اس بزدلانہ اور دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ ہادی کے حوالے سے ایک ذرائع نے کہا کہ ’’حوثی ملیشیا کا یہ شرمناک قدم اس بات کی بلاشبہ تصدیق کرتا ہے کہ وہ امن کے خواہش مند نہیں ہیں، کیونکہ اسے موت اور تباہی کے علاوہ کچھ نہیں آتا اور وہ علاقے میں ایران کا گھٹیا اسلحہ ہے۔‘‘ حوثی باغیوں نے اس حملے کی فوری طور پر ذمہ داری نہیں لی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔