مغربی ایشیا میں کشیدگی کے بیچ پاکستان میں ’اسمارٹ لاک ڈاؤن‘، بازار رات 8 بجے بند کرنے کا اعلان
پاکستان کی شہباز شریف حکومت نے پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد راجدھانی علاقہ، گلگت بلتستان اور مقبوضہ کشمیر میں بازار، شاپنگ مال اور کمرشل مقامات رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعدمشرق وسطیٰ میں مچی افراتفری کے دوران دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی کا اہم راستہ آبنائے ہرمز پر ایران کی طرف سے پہرہ سخت کئے جانے کے بعد سے جنوبی ایشیا اور یورپی ممالک میں پٹرول۔ ڈیزل اور ایل پی جی کی قلت ہوگئی ہے۔ ہندوستان، نیپال اور بنگلہ دیش جیسےممالک نے اس بحران سے بچنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں لیکن پاکستان اس بحران سے بچ نہیں پایا اور حالات خراب ہونے لگے۔ صورتحال کو بے قابو ہونے سے بچانے کے لیے اب پاکستان حکومت نے ملک بھر میں ’اسمارٹ لاک ڈاؤن‘ لگا دیا ہے تاکہ توانائی کی حفاظت ہوسکے۔ اس بات کا اعلان وزیر اعظم شہباز شریف نے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ میٹنگ میں کیا۔
پاکستانی ریڈیو کے مطابق شہباز حکومت نے پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد راجدھانی علاقہ، گلگت بلتستان اور پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں بازاروں، شاپنگ مال اور تجارتی علاقوں کو رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اسلام آباد میں شہباز شریف کے زیر صدارت ہونے والی جائزہ میٹنگ میں کیا گیا۔ اس میٹنگ میں توانائی کے تحفظ اور پٹرولیم مصنوعات کے استعمال کو کم سے کم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ صوبائی حکومت کی مشاورت سے شہباز حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں بازار اور شاپنگ مال رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔ اسی طرح تمام جنرل اسٹورز، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور ہر قسم کے مال رات 8 بجے بند ہوجائیں گے۔
اس کے علاوہ بیکری، ریسٹورنٹ اور کھانے پینے کی دیگر دکانیں، میرج ہال، ٹینٹ اور دیگر تجارتی مقامات جہاں شادیاں اور دیگر تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے، یہ رات 10 بجے کے بعد بند کر دی جائیں گی۔ میٹنگ میں نجی جائیدادوں اور گھروں میں رات 10 بجے کے بعد شادی تقریبات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاہم میڈیکل اسٹورز اور فارمیسی ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ پابندیاں آج (منگل) سے لاگو ہوں گی یعنی پاکستان میں رات 8 بجے سے اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے گا۔
اجلاس میں شرکا کو بریفنگ دی گئی کہ صوبہ سندھ میں مارکیٹس اور دیگر اوقات کار کے حوالے سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔ اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں دی گئی سبسڈی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کرنے کا عمل جاری ہے اور اب تک 1 لاکھ ٹرانزیکشن ہو چکی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ سندھ حکومت کی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے، مجھے امید ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ بھی اس حوالے سے جلد مشاورت کا عمل مکمل کرنے کے بعد اس فیصلے میں شامل ہو جائیں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گلگت شہر اور مظفرآباد شہر میں انٹراسٹی پبلک ٹرانسپورٹ ایک ماہ کے لئے مفت ہو گی اور تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔