خلیجی کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل، دبئی بندرگاہ پر ایرانی حملہ، کویت کا تیل ٹینکر نذر آتش
ایرانی حملے میں دبئی بندرگاہ پر کویت کا تیل ٹینکر جل گیا، عملہ محفوظ رہا۔ خلیجی ممالک ہائی الرٹ پر ہیں جبکہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے

خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک اہم پیش رفت میں ایرانی حملے کے نتیجے میں دبئی بندرگاہ پر کویت کا ایک تیل ٹینکر آگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے حکام کے مطابق حملے کے فوراً بعد سمندری فائر فائٹنگ ٹیموں نے آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کر دیں، جبکہ ٹینکر پر سوار تمام 24 افراد کے محفوظ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس واقعے نے پہلے سے جاری تنازعہ کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور خطے میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران پہلے ہی متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین میں صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ کارروائیاں ان امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں جن میں ایران کے اہم اسٹیل پلانٹس کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ دبئی بندرگاہ پر کویتی ٹینکر کو نشانہ بنانا اس کشیدگی کا تازہ ترین اور نمایاں واقعہ بن کر سامنے آیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ ذرائع نے حملے سے کچھ دیر پہلے ہی کویتی ٹینکر کو ہدف بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں ٹینکر سے اٹھتے شعلے اور دھواں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعے نے خلیجی ممالک کے دفاعی نظام کو مزید چوکس کر دیا ہے اور پورا خطہ ہائی الرٹ پر ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے معاہدے کی طرف پیش رفت نہ کی اور آبنائے ہرمز بند رہی تو ایران کی توانائی اور بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس بیان نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات کو تقویت دی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ایران کے حملے خلیجی ممالک کے خلاف نہیں بلکہ ان قوتوں کے خلاف ہیں جنہیں وہ ’دشمن حملہ آور‘ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے علاقے سے امریکی افواج کو باہر نکالے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی پوزیشن کو خطے میں وسیع تناظر میں پیش کر رہا ہے۔
ادھر اسرائیل نے بھی تہران کے اندر بڑے پیمانے پر حملے کرتے ہوئے ایران کے عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ یمن کے حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل حملوں کا دوسرا دور شروع کر کے تنازعہ کو مزید پھیلا دیا ہے۔ ان تمام پیش رفتوں کے درمیان دبئی بندرگاہ پر کویتی ٹینکر کو جلایا جانا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یہ تنازعہ اب صرف عسکری تنصیبات تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کے نظام کو بھی براہ راست متاثر کر رہا ہے۔