مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا دسواں دن: تہران میں دھماکے، ایران کے جوابی حملے تیز، تیل کی قیمت میں لگی آگ

مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دسویں دن تہران میں شدید حملے اور ایران کی جوابی کارروائیاں تیز ہو گئیں۔ خلیجی ممالک ہائی الرٹ پر ہیں جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ اپنے دسویں دن میں داخل ہو گئی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ تازہ حملوں، میزائل کارروائیوں اور عسکری بیانات نے خطے کی صورتحال کو نہایت حساس بنا دیا ہے۔ اسی دوران ایران میں مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ وہ اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ سنبھالیں گے، جو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں شہید ہو گئے تھے۔

جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی افواج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک اہم تیل کے کارخانے کو نشانہ بنایا جس کے بعد وہاں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ اس حملے کے ساتھ ہی اسرائیل کے تقریباً 80 جنگی طیاروں نے تہران کی امام حسین یونیورسٹی اور زیرِ زمین بیلسٹک میزائل سائلو پر فضائی حملے کیے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے بتایا کہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے میزائلوں کی پہلی کھیپ بھی داغ دی ہے جسے جنگ میں ایران کی بڑی جوابی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کے سینئر سلامتی عہدیدار علی لاریجانی نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے کئی امریکی فوجیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم امریکہ کی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی امریکی فوجی کو ایران نے قیدی نہیں بنایا۔


دوسری جانب ایران کی جوابی کارروائیوں کے باعث پورے خلیجی خطے میں خطرے کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ بحرین اور سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 200 سے زیادہ ڈرون اور میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ دھماکوں اور میزائل حملوں کے خدشات کے بعد دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی کچھ وقت کے لیے اپنے فضائی آپریشن روکنے پڑے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پڑوسی ممالک کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر حملے بند کر دیے جائیں تو صورتحال کو معمول پر لایا جا سکتا ہے۔ ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو مزید 151 ملین ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایران سے مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

جنگ کے باعث انسانی جانوں کا بڑا نقصان بھی سامنے آ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً ایک ہزار دو سو تیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ لبنان میں چار سو سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔ اسی دوران ساتویں امریکی فوجی کے ہلاک ہونے کی خبر بھی سامنے آئی ہے جس سے اس تنازع کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اس تنازعہ کا اثر عالمی معیشت پر بھی پڑنے لگا ہے۔ امریکہ میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جو روس اور یوکرین جنگ کے بعد پہلی مرتبہ دیکھا گیا ہے۔ توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


اسی دوران امریکہ کے محکمہ خارجہ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سعودی عرب میں موجود غیر ضروری سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

ادھر ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بتایا کہ ایرانی بحریہ کا جہاز آئی آر آئی ایس لوان انسانی بنیادوں پر کوچی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس کا ایک ہم شکل جہاز امریکی آبدوز کے حملے میں ڈوب گیا تھا۔ دوسری جانب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ کیف مشرقِ وسطیٰ میں عام شہریوں اور وہاں موجود امریکی فوجیوں کی مدد کے لیے ماہرین بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس جنگ نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ تنازع کس رخ اختیار کرتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔