جاسوسی کے الزام میں اخوان المسلمون کے 11 سینئر ممبران کو سزائے عمر قید

سزا پانے والوں میں اخوان المسلمون کے سب سے بڑے رہنما محمد بدیع اور ان کے نائب خیرت الشاطر شامل ہیں۔ان دونوں رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جس کی مدت مصر میں 25 سال ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

قاہرہ: اخوان المسلمون کے 11 سینئر ممبران کو فلسطینی تنظیم حماس کے لئے جاسوسی کے الزام میں مصر کی ایک عدالت نےعمر قید کی سزا سنائی ہے۔ خبررساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ میں عدالتی ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا کہ سزا پانے والوں میں اخوان المسلمون کے سب سے بڑے رہنما (مرشد عام) محمد بدیع اور ان کے نائب خیرت الشاطر شامل ہیں۔ان دونوں رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جس کی مدت مصر میں 25 سال ہے۔

رپورٹس کے مطابق اخوان المسلمون کے دیگر 5 اراکین کی بھی7 سے 10 سال تک قید کی سزا سنائی گئی جبکہ 6 افراد کو رہا کردیا گیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ان تمام افراد پر ’’غیر ملکی تنظیموں کے تعاون سے جرائم کرنے‘‘ کا الزام تھا، جن میں فلسطینی تنظیم حماس اور لبنان سے تعلق رکھنے والی عسکری جماعت حزب اللہ شامل ہے۔

مذکورہ کیس میں ابتدائی طور پر مصر کے سابق صدر محمد مرسی کو بھی ملوث کیا گیا تھا جو عدالتی پیشی کے موقع پر طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وفات پاگئے تھے۔ یاد رہے کہ اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے مصر کے واحد صدر محمد مرسی 30 جون 2012 کو اقتدار سنبھالا تھا لیکن ایک سال بعد ہی 3 جولائی 2013 کو مصری فوج نے ان کا تختہ الٹ دیا تھا۔