عالمی آواز: ٹرمپ کی شکست میں ہمارے لئے بہت سے سبق ہیں ... سید خرم رضا

ہندوستان میں ہم زبردست شور کی سیاست کا دبدبا دیکھ رہے ہیں اور یہ شور مستقل ذرائع ابلاغ کی مدد سے بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے عوام کے بنیادی مدے دبتے چلے جا رہے ہیں۔

امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ / Getty Images
امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ / Getty Images
user

سید خرم رضا

’’ہم دوبارہ ایک دوسرے کی بات سننے لگیں، ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں، ایک دوسرے کا احترام کرنے لگیں، سیاست کوئی ایسی آگ نہیں ہونی چاہیے جو اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کر دے اور نا اتفاقی مکمل لڑائی کی وجہ نہیں ہونی چاہیے‘‘ یہ وہ جملے ہیں جو امریکہ کے نئے صدر بائیڈن نےحلف لینے کے بعد اپنے خطاب میں کہے۔ صدر بائیڈن نے جو بات کہی ہے اگر امریکہ اس پر عمل کرے تو امریکہ نہ صرف پوری دنیا کے لئے ایک مثال پیش کرے گا بلکہ خود امریکہ بھی امن اور ترقی کی راستے پر گامزن ہوگا۔

صدر بائیڈن نے جہاں نسل پرستی اور سفید فام کی بالادستی کے خلاف با آواز بلند کہا کہ امریکہ کو ان کے خلاف لڑنا ہوگا اور ملک میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا امریکہ ان کے خلاف لڑے گا اور شکست دے گا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’آپ جیسے نہ دکھنے والے یا آپ کی طرح عبادت نہ کرنے والوں کے ساتھ نفرت کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ آج امریکہ کا دن ہے، جمہوریت کا دن ہے۔ اپنی حلف برداری کی تقریب پر انہوں نےکہا کہ’’یہ کسی ایک امیدوار کی جیت کی تقریب نہیں ہے بلکہ یہ ایک مقصد کی جیت کی تقریب ہے اور امریکہ اس مقصد کی حصولی کا جشن منا رہا ہے۔ ‘‘


پوری دنیا میں شور کی سیاست کی بالا دستی ہے اور ہر شخص اور پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ جو وہ کرتے ہیں یا مانتے ہیں بس وہی ٹھیک ہے، امریکہ میں سبکدوش صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس کی ایک مثال تھے۔ اس شور کی سیاست پر صدر بائیڈن نے کہا کہ ’’ہمیں اتحاد کے لئے شور اور درجہ حرارت کو کم کرنے کی ضرورت ہےکیونکہ اتحاد کے بغیر کوئی امن نہیں قائم ہو سکتا، بلکہ تفریق اور تلخی میں اضافہ ہوتا ہے۔‘‘ اس موقع پر انہوں ابراہم لنکن کو یاد کرتے ہوئے ان کی کہی ہوئی بات دہرائی ’’امریکی اتحاد میری روح ہے۔‘‘ بائیڈن نے کہا ’’امریکی اتحاد ان کی بھی روح ہے جبکہ آج کل اتحاد کی بات کرنا بیوقوفی سمجھا جاتا ہے کیونکہ سماج بری طرح منقسم ہے۔ ‘‘

انہوں نے اپنے خطاب میں سبکدوش صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نام لئے بغیر حال ہی میں کیپیٹل ہل پر ہوئے تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا ’’ابھی کچھ دن پہلے ہوئے تشدد نے امریکہ کی بنیاد کو ہی ہلاکر رکھ دیا تھا، لیکن ہم متحد ہوکر ایک ساتھ آئے۔‘‘ تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں کہا کہ پہلی مرتبہ امریکہ میں ایک خاتون نائب صدر منتخب ہوئی ہیں، جن کا تعلق سیاہ فام سماج سے ہے اور ان کا تعلق جنوبی ایشیا سے بھی ہے۔ یہ اس تبدیلی کی ایک مثال ہے۔ ہر حکمراں جو کہتا ہے کہ وہ پوری عوام کا حکمراں ہے چاہے اس میں حامی ہوں یا مخالفین، بائیڈن کا اس بات کا کہنا بہت اہمیت رکھتا تھا کیونکہ امریکی سماج پوری طرح منقسم ہے۔ امریکی سماج میں جو لوگ بائیڈن مخالف ہیں وہ ہرگز بائیڈن کو اپنا صدر ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اس کی مثال خود ڈونالڈ ٹرمپ ہیں جو 160 سال بعد پہلے ایسے صدر ہیں جو نومنتخب صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔


بہر حال یہ وہ باتیں تھیں جو امریکی صدر بائیڈن نےحلف لینے کے بعد کہیں، لیکن ان باتوں کے پوری دنیا اور ہندوستان کے لئے کیا معنی ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈالنی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیا میں شور کی سیاست نے قوم پرستی کا لبادہ اوڑھ کر حقیقی سیاست کو پوری طرح ختم کرنے کی حد تک دبا دیا ہے۔ اس کا فائدہ سب سے زیادہ کارپوریٹ گھرانوں کو ہوا ہے۔ اگر امریکہ میں قوم پرستی کا لبادہ اوڑھے شور کی سیاست کو شکست ہوئی ہے تو یہ پوری دنیا کے لئے ایک اچھی خبر ہے۔

ہندوستان میں ہم زبردست شور کی سیاست کا دبدبا دیکھ رہے ہیں اور یہ شور مستقل ذرائع ابلاغ کی مدد سے بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے عوام کے بنیادی مدے دبتے چلے جا رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں ممتا کی سیاست ہو، دہلی میں کیجریوال کا شور ہو، اویسی اور بی جے پی کے قائدین کی منافرت پھیلانے والا ہنگامہ ہو، سب نے عوام کو ان کے بنیادی مدوں سے دور کر دیا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اتحاد ہوگا تو امن قائم ہوگا، امن قائم ہوگا تو ترقی ہوگی، ترقی ہوگی تو سماج میں خوشحالی آئے گی اور غربت کا خاتمہ ہوگا۔ اس لئے ہمیں بھی ٹرمپ کی شکست اور بائیڈن کے خطاب سے سبق لے کر اتحاد پر توجہ مرکوز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 21 Jan 2021, 1:13 PM