نیوزی لینڈ میں لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی، ملبے تلے دبا سیاحتی کیمپ، بچوں سمیت کئی افراد لاپتہ

نیوزی لینڈ کے ماؤنٹ ماؤنگانُوئی میں شدید بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ سے سیاحتی ہالیڈے پارک تباہ ہو گیا، بچوں سمیت کئی افراد لاپتہ ہیں اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نیوزی لینڈ کے بے آف پلینٹی خطے میں واقع ماؤنٹ ماؤنگانُوئی کے دامن میں قائم ایک سیاحتی ہالیڈے پارک میں شدید بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کا بڑا حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد لاپتہ ہو گئے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ جمعرات کی صبح اس وقت پیش آیا جب مسلسل اور موسلا دھار بارش کے باعث زمین اپنی مضبوطی برقرار نہ رکھ سکی اور اچانک نیچے کی طرف کھسک گئی۔

ابتدائی معلومات کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ صبح تقریباً ساڑھے نو بجے ہوئی۔ کیچڑ، پتھروں اور ملبے کا ایک بڑا تودہ کیمپر وینز، گاڑیوں، خیموں، گرم پانی کے حوض اور شاور بلاک پر آ گرا، جس سے سیاحتی کیمپ کو شدید نقصان پہنچا۔ اس اچانک پیش آنے والے حادثے کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور وہاں موجود افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔


ہنگامی انتظامات کے وزیر مارک مچل نے اس واقعے کو ایک دل دہلا دینے والی انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ ہالیڈے پارک میں تلاش اور بچاؤ کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ ان کے مطابق تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور صورتِ حال پر لمحہ بہ لمحہ نظر رکھی جا رہی ہے۔ فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کے کمانڈر ولیم پائیکے نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں ریسکیو ٹیموں کو ملبے کے نیچے سے کچھ آوازیں سنائی دی تھیں، تاہم بعد میں کوئی آواز سننے میں نہیں آئی۔ اب تک کسی زندہ فرد کے ملنے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

یہ لینڈ سلائیڈنگ ٹاؤرانگا شہر اور اس کے اطراف میں ریکارڈ توڑ بارش کے بعد سامنے آئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صبح نو بجے تک کے چوبیس گھنٹوں میں دو سو ستر ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو معمول سے کئی گنا زیادہ ہے۔ شدید بارش اور سیلابی کیفیت کے باعث نارتھ آئی لینڈ کے کئی حصے بری طرح متاثر ہوئے، ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہو گئے جبکہ مشرقی ساحل اور نارتھ لینڈ کے بعض علاقوں میں زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔


وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے متاثرہ علاقوں کے عوام سے مقامی انتظامیہ کی حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطرناک موسمی حالات بدستور جاری ہیں اور حکومت متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے۔ مقامی میئر ماہِے ڈرائسڈیل نے بھی واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اولین ترجیح لوگوں کی جان و سلامتی اور بہبود کو یقینی بنانا ہے۔