بنگلہ دیش: روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ایک ہلاک، 4 ہزار افراد بے گھر

میانمار اور بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب پہاڑیوں پر بنائے گئے ان عارضی کیمپوں میں جھونپڑیاں بنانے اور آگ جلانے کے لیے درختوں کو اکھاڑ لیا گیا تھا جس کی وجہ سے یہاں کی زمین کمزور ہوگئی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

ڈھاکہ: مان سون کی بارشوں کی نتیجے میں بنگلہ دیش میں واقع روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے سبب ایک شخص ہلاک جبکہ ساڑھے 4 ہزار افراد بے گھر ہوگئے۔ خبررساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ میں اقوام متحدہ کے حوالہ سے بتایا گیا کہ کاکس بازار کے قریب قائم کیمپ میں میانمار سے ہجرت کرنے والے 9 لاکھ روہنگیا مسلمان پناہ گزین ہیں۔ جہاں 3 دن کے دوران تقریباً 35 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس کے بعد ہفتے کے روز وہاں لینڈ سلائیڈنگ ہوگئی۔

میانمار اور بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب پہاڑیوں پر بنائے گئے ان عارضی کیمپوں میں جھونپڑیاں بنانے اور آگ جلانے کے لیے درختوں کو اکھاڑ لیا گیا تھا جس کی وجہ سے یہاں کی زمین کمزور ہوگئی تھی اور یہاں اب تک 26 لینڈ سلائیڈز ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی تنظیم برائے پناہ گزین کے عہدیدار اریاض رحمن نے بتایا کہ طوفان کے نتیجے میں 30 کے قریب جھونپڑیاں متاثر ہوئیں جبکہ ایک 50 سال خاتون دیوار گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں۔

اس ضمن میں ایک 40 سالہ روہنگیا پناہ گزین نور محمد نے بتایا کہ مرکزی کٹوپالونگ کیمپ سے ان کے 12 رشتہ دار شیٹوں سے بنائی گئیں جھونپڑیاں چھوڑ کر ان کے پاس پناہ لینے کے لیے پہاڑیوں پر آگئے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ’’میرے گھر میں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ لوگ رہائش پذیر ہیں مجھے پریشانی ہے کہ میں ان سب افراد کو کھانا کیسے کھلاؤں گا‘‘۔

حکام کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان متنازع علاقے میں موجود 5 ہزار روہنگیا بھی طوفان سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ کیمپ کے سربراہ دل محمد نے فون پر گفتگو کرتے ہوئے اے ایف کو بتایا کہ بچے اسہال کی بیماری میں مبتلا ہو رہے ہیں اور ہمارے پاس پینے کا پانی بھی موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر کیمپوں میں گھٹنوں تک پانی جمع ہے کیوں کہ میانمار حکام نے قریبی دریا پر ڈیم بنا دیا ہے۔

اس حوالے سے بنگلہ دیش کے پناہ گزین کمشنر محمد عبدالکلام نے بتایا کہ ہنگامی کارروائیاں کی جارہی ہیں، 2017 میں مون سون سیزن کے دوران آنے والے طوفان کے دوران ان پناہ زین کیمپوں میں 170 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ گزشتہ برس اقوام متحدہ نے سیلاب کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر 30 ہزار روہنگیا افراد کو ان علاقوں سے منتقل کردیا تھا۔

یاد رہے کہ اگست 2017 میں بدھ اکثریت پر مشتمل میانمار کی ریاست رخائن میں فوجی کریک ڈاؤن کی وجہ سے 7 لاکھ 40 روہنگیا ہجرت کر کے بنگلہ دیش آگئے تھے جہاں پہلے سے ہی 2 لاکھ پناہ گزین کیمپوں میں مقیم تھے۔