وینزویلا پر امریکی کارروائی: کملا ہیرس کی ٹرمپ پر شدید تنقید، کہا- ’یہ ڈرگز نہیں، تیل کی سیاست ہے‘
کملا ہیرس نے وینزویلا پر امریکی فوجی کارروائی کو غیر قانونی اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ڈرگز نہیں بلکہ تیل اور سیاسی طاقت کی سیاست کا نتیجہ ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام بڑھے گا

وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکی سیاست میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکہ کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اس کارروائی کو غیر قانونی، خطرناک اور قومی مفاد کے بجائے سیاسی مفادات سے جڑا ہوا قدم قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی نے نہ صرف خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ امریکی عوام کی جان اور وسائل بھی داؤ پر لگا دیے گئے ہیں۔
کملا ہیرس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ وینزویلا میں کی گئی فوجی کارروائی سے امریکہ نہ زیادہ محفوظ ہوا ہے، نہ مضبوط اور نہ ہی سستا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نکولس مادورو ایک سخت گیر اور آمر حکمران ہیں، لیکن اس حقیقت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی خودمختار ملک میں فوجی مداخلت جائز ہو جاتی ہے۔ ہیرس کے مطابق تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حکومتیں بدلنے یا تیل کے حصول کے لیے شروع کی جانے والی جنگیں ابتدا میں طاقت کے اظہار کے طور پر پیش کی جاتی ہیں، مگر بعد میں وہ بدامنی اور طویل عدم استحکام میں بدل جاتی ہیں، جس کی قیمت عام امریکی خاندانوں کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
سابق نائب صدر نے الزام لگایا کہ امریکی عوام کو اس آپریشن کی اصل وجوہات کے بارے میں گمراہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ نہ تو منشیات کے خلاف جنگ کا ہے اور نہ جمہوریت کے تحفظ کا، بلکہ اصل مقصد تیل اور صدر ٹرمپ کی طاقت کے مظاہرے کی سیاست ہے۔ ہیرس نے کہا کہ اگر واقعی منشیات کے خاتمے یا جمہوری اقدار کی فکر ہوتی تو ماضی میں سزا یافتہ منشیات اسمگلروں کو معاف نہ کیا جاتا اور وینزویلا کے جائز سیاسی مخالفین کو نظر انداز نہ کیا جاتا۔
کملا ہیرس نے طویل المدتی نتائج پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کو غیر ضروری خطرات لاحق ہو گئے ہیں، اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں اور ایک پورا خطہ عدم استحکام کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جبکہ اس سے امریکہ کو کوئی واضح فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ کو ایسے قیادت کی ضرورت ہے جو قانون کی بالادستی، عالمی اتحادوں کے استحکام اور سب سے بڑھ کر امریکی عوام کے مفادات کو اولین ترجیح دے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔