جو بائیڈن کی سینیٹ سے ’فلبسٹر اصول‘ تبدیل کرنے کی درخواست

صدر بائیڈن نے کہا کہ پچھلے سال 154 بار فلیبسٹر رول کا استعمال کیا گیا تھا۔ اسے ہتھیار بنایا گیا ہے اور اس کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔

جو بائیڈن، تصویر آئی اے این ایس
جو بائیڈن، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ ڈیموکریٹ کی جانب سے پیش کئے گئے ووٹنگ اصلاحاتی قانون نافذ کرنے کے لیے سینیٹ کے کلیدی قواعد کو تبدیل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ کانگریس کے ذریعے ووٹنگ ریفارم بل حاصل کرنے کے لئے جو بائیڈن کی مذمت کی جا رہی ہے جس کے لیے فلبسٹر نامی ایک عمل کو ختم کرنے کی ضرورت ہوگی، جو اقلیتی پارٹی کو قانون ختم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

امریکی صدر نے منگل کو ریاست جارجیا میں کہا کہ امریکی سینیٹ کو دنیا کی سب سے بڑی تبادلہ خیال کرنے والی تنظیم کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے سینیٹ کے قوانین میں تبدیلی اور سینیٹرز کی اقلیت کے حق رائے دہی میں کارروائی کو روکنے کے لیے ضروری ہے، بشمول ووٹنگ رائٹس بل کو 60 ووٹوں کی حد کے بجائے معمولی اکثریت سے نافذ کرنے کی اجازت دینا شامل ہے۔


صدر بائیڈن نے کہا ’’میں گزشتہ دو ماہ سے کانگریس کے ارکان کے ہمراہ بات چیت کر رہا ہوں اور اب میں خاموش رہ کر تھک گیا ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال 154 بار فلیبسٹر رول کا استعمال کیا گیا تھا۔ اسے ہتھیار بنایا گیا ہے اور اس کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔

امریکی سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر نے کہا کہ اس ماہ کے اوائل میں سینیٹ نئے حق رائے دہی قانون کو منظور کرنے کے لئے 17 جنوری تک اپنے فلیبسٹر قوانین میں تبدیلی کے لیے ووٹنگ کرے گی۔ بائیڈن نے سینیٹ پر زور دیا کہ وہ حق رائے دہی کے بلوں کو منظور کرنے کے لیے فلبسٹر رولز کو تبدیل کرے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔