جاپان میں سمندری طوفان: ہلاکتوں کی تعداد 70 ہو گئی

حکومت نے متاثرہ علاقوں میں نظام زندگی کی بحالی کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے، جبکہ ہزاروں افراد امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

جاپان میں ہفتہ کو آئے طاقتور ہیگی بیز نامی سمندری طوفان سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 70 ہو گئی ہے اور 200 سے زائد دیگر زخمی ہوئے ہیں جبکہ 13 افراد اب بھی لاپتہ ہیں جبکہ ہزاروں بے گھر ہو گئے ہیں۔ طوفان کے باعث زیادہ تر اموات مٹی کے تودے گرنے اور گاڑیوں و مکانات کے پانی میں بہہ جانے کے سبب ہوئیں۔

ہیگی بیز نے ہفتہ کو جاپان میں دستک دی تھی۔ شدید طوفان کے ساتھ موسلادھار بارش اور تیز ہواؤں نے چاروں طرف تباہی پھیلا دی، پورے ملک میں دریاؤں میں طغیانی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر سیلاب آیا۔صوبہ چیبا میں تو لوگوں کو طوفان کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

جاپان کے وزیر اعظم شینزو ایبے کا کہنا ہے کہ حکومت کا امدادی سرگرمیاں روکنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ متاثرین کی امدادی کارروائیوں میں ایک لاکھ دس ہزار پولس، کوسٹ گارڈز اور فوجی اہل کار حصہ لے رہے ہیں۔ جاپانی وزیرِ اعظم نے پارلیمان سے خطاب میں بتایا کہ امدادی ٹیمیں 24 گھنٹے کام کر رہی ہیں۔ جن علاقوں سے دریاؤں میں شگاف پڑا انہیں پُر کیا جا رہا ہے۔ جہاں سیلاب کا پانی جمع ہے اسے نکالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے اب تک 3 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

این ایچ کے براڈکاسٹر کے مطابق، 37 دریاؤں پر بنے حفاظتی ڈیم تباہ ہو گئے جبکہ جاپان کے 16 صوبوں میں 161 دریاؤں میں سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ طوفان سے فوکوشیما، میاگی، كاناگاوا، توچیگی، سیتاما، ناگانو اور شزوكا صوبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

معیشت، تجارت اور صنعت کی وزارت کے مطابق، 13 صوبوں میں 138000 گھروں میں لوگ بغیر پانی کے رہ رہے ہیں جبکہ 34000 گھروں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ لوگ بغیر بجلی کے رہ رہے ہیں۔

Published: 15 Oct 2019, 9:00 PM