جاپان: اولمپکس کے مسلم کھلاڑیوں کے لئے موبائل مسجد کا انتظام

موبائل مسجد پروجیکٹ کے سی ای او یسوہارو اینوو نے کہا کہ ہو سکتا ہے 2020 میں جب دنیا بھر کے لوگ اس ملک میں اولمپکس کھیلوں میں شرکت کرنے آئیں تو نماز پڑھنے کے لیے مسجدوں کی کمی پڑ جائے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ایک طرف ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں مذہبی عدم برداشت بڑھ رہا ہے اور مسلم مخالف تشدد کو انجام دیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف جاپان لوگوں کی مذہبی عقیدت کی آزادی کو یقینی بنانے میں مصروف ہے۔ 2020 کے اولمپک کھیلوں کا انعقاد جاپان کی راجدھانی ٹوکیو میں ہوگا۔ اس کھیل میں کئی ممالک کے مسلم کھلاڑی اور ناظرین پہنچیں گے۔ ان کی سہولت کے لیے جاپان نے موبائل مسجدیں بنائی ہیں۔ ان میں ایک بار میں 50 لوگ نماز ادا کر سکیں گے۔ اس موبائل مسجد کو کھیل کے دوران اسٹیڈیم کے باہر کھڑا کیا جائے گا۔ ان میں وضو کرنے کے لیے بھی جگہ بنائی گئی ہے۔

موبائل مسجد کو ٹوکیو اسپورٹس اور کلچرل ایونٹس کمپنی نے بنایا ہے۔ کمپنی کے مطابق انھیں بنانے کا مقصد جاپان آنے والوں کو گھر جیسا احساس دینا ہے۔ موبائل مسجد پروجیکٹ کے سی ای او یسوہارو اینوو نے کہا کہ ’’ہو سکتا ہے کہ 2020 میں جب دنیا بھر کے لوگ اس ملک میں اولمپک کھیلوں میں شرکت کرنے آئیں تو یہاں نماز پڑھنے کے لیے مسجدوں کی کمی پڑ جائے۔ اس لحاظ سے یہ موبائل مسجد کارگر ثابت ہوگی۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے مسلم ہمارے اوموتیناشی (جاپانی استقبال کا طریقہ) کو دیکھیں۔‘‘

یسوہارو اینوو نے مزید کہا کہ انھیں اس طرح کی مسجد بنانے کی ترغیب 4 سال پہلے خلیج ملک قطر کے سفر کے دوران ملی۔ پہلے اس پروجیکٹ کا مقصد ملک کے اندر اور بین الاقوامی کھیل اُتسو میں مسلم کھلاڑیوں اور ناظرین کو نماز کے لیے جگہ مہیا کرانا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جاپان میں ایک سے دو لاکھ مسلمان رہتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔