مغربی ممالک ہمیں لیکچر دیتے ہیں مگر اپنے علاقوں کے تشدد کو نظر انداز کرتے ہیں: ڈاکٹر ایس جے شنکر
ایس جے شنکر نے لکسمبرگ میں مغربی ممالک کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان مثبت شراکت داروں کے ساتھ تعمیری بات چیت کرے گا، جبکہ انہوں نے ہند-لکسمبرگ تعلقات کو یورپ میں کلیدی قرار دیا

لکسمبرگ: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بدھ کے روز مغربی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ممالک علاقائی کشیدگی پر ہندوستان کو لیکچر دیتے ہیں، لیکن اپنے ہی علاقوں میں تشدد اور خطرات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے لکسمبرگ میں ہندوستانی برادری سے خطاب کے دوران کہی، جہاں انہوں نے ہندوستان اور لکسمبرگ کے درمیان مضبوط اور بڑھتی ہوئی شراکت داری پر بھی زور دیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران بعض مغربی ممالک کے بیانات اس رویے کی واضح مثال ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی واقعی تشدد اور عدم استحکام پر فکرمند ہے تو اسے پہلے اپنے خطے کی صورتحال کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی فطرت یہی ہے کہ کچھ ممالک اپنے مفادات کے تحت بات کرتے ہیں اور مفت مشورے دیتے رہتے ہیں، مگر ہندوستان ایسے مشوروں کو قبول کرنے کا پابند نہیں۔
ڈاکٹر جے شنکر نے واضح کیا کہ دور دراز ممالک اکثر زمینی حقائق اور علاقائی پیچیدگیوں کو سمجھے بغیر رائے دیتے ہیں، یا پھر اپنے اسٹریٹجک مفادات کو سامنے رکھ کر بیانات جاری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی ماحول میں ممالک زیادہ خود پسند ہو رہے ہیں اور وہی فیصلے کر رہے ہیں جن سے انہیں براہ راست فائدہ پہنچے۔
وزیر خارجہ نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی ان ممالک کے ساتھ مثبت اور تعمیری بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہے جو ہندوستان کے ساتھ اسی جذبے سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ تاہم، جو عناصر پاکستان کی طرز پر رویہ اختیار کرتے ہیں، ان کے ساتھ مختلف انداز میں نمٹا جائے گا۔
مغربی ممالک پر تنقید کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر جے شنکر نے ہندوستان اور لکسمبرگ کے درمیان 78 سالہ تعلقات کو بھی نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان لکسمبرگ کو نہ صرف دو طرفہ سطح پر بلکہ یورپی یونین کے تناظر میں بھی ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ہندوستان اور یورپی یونین کے تعلقات ایک نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لکسمبرگ نے ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کو گہرا کرنے میں مسلسل مثبت کردار ادا کیا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون فراہم کیا ہے، جو نئی دہلی کے لیے نہایت قیمتی ہے۔
ہندوستانی کمیونٹی سے ملاقات کے بعد وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ لکسمبرگ میں ہندوستانی برادری سے مل کر خوشی ہوئی اور سیاسی، کاروباری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دو طرفہ شراکت داری میں نمایاں توسیع دیکھنے کو ملی ہے۔ انہوں نے ہندوستان۔لکسمبرگ تعلقات کو مضبوط بنانے میں ڈائسپورا کے کردار کی بھی ستائش کی۔
آخر میں ڈاکٹر جے شنکر نے یورپ کے ساتھ ہندوستانی تعلقات کے مستقبل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عالمی نظام میں دوبارہ توازن پیدا ہو رہا ہے اور ہر خطہ اپنے مفادات کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔ ان کے مطابق 2026 میں یورپ کے ساتھ ہندوستانی تعلقات کو مزید فروغ ملنے کی پوری توقع ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔