عمان کے پاس بحری جہاز کو آئی آر جی سی نے بنایا نشانہ، فائرنگ سے شپ کو ہوا بھاری نقصان، عملہ محفوظ!

بحری جہاز پر حملہ اس وقت ہوا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان آج مجوزہ امن مذاکرات نہیں ہو سکے۔ شروعاتی رپورٹ کے مطابق فائرنگ سے جہاز کو نقصان پہنچا ہے لیکن عملے میں کسی کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے۔

<div class="paragraphs"><p>خلیج عمان میں بحری جہاز پر حملہ (فائل فوٹو)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان عمان کے پاس سمندر میں ایک کنٹینر جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی خبر آ رہی ہے۔ یونائٹیڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنس (یوکے ایم ٹی او) نے اس واردات کی اطلاع دی۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی ریوولیوشنری گارڈ کارپس (آئی آر جی سی) کی ایک گن بوٹ نے اس جہاز پر حملہ کیا۔ یہ واقعہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ یکطرفہ طور پر جنگ بندی کی مدت میں توسیع کئے جانے کے کچھ گھنٹے بعد آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل سے تقریباً 15 بحری میل شمال مشرق میں پیش آیا۔

تازہ واردات اس وقت ہوئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان آج مجوزہ امن مذاکرات نہیں ہو سکے۔ شروعاتی رپورٹ کے مطابق فائرنگ سے جہاز کو نقصان پہنچا ہے لیکن عملے میں کسی کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے۔ فی الحال یہ صاف نہیں ہے کہ یہ جہاز کس ملک کا ہے۔ امریکی بحریہ نے اس راستے کی ناکہ بندی جاری رکھی ہے۔ یونائٹیڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنس (یو کے ایم ٹی او) کی رپورٹ کے مطابق یہ حملہ بدھ کی صبح تقریباً 7.55 بجے ہوا۔ آئی آر جی سی سے وابستہ ایک گن بوٹ نے بغیر کسی بات چیت یا وارننگ کے سیدھے کنٹینر شپ پر گولیاں چلا دیں۔ یہ جہاز دنیا کے سب سے اہم ریل اور تجاری آبی راستے سے گزر رہا تھا۔ فائرنگ ہوئی لیکن جہاز کا عملہ محفوظ بتایا جا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے اب تک اس واردات پر کوئی سرکاری بیان نہیں آیا ہے۔


تازہ معاملہ سمندر میں جاری تنازعات کے بعد سامنے آیا ہے۔ گزشتہ ہفتہ امریکہ نے فائرنگ کے بعد ایران کا ایک کنٹینر شپ اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس کے علاوہ امریکی فوج نے بحر ہند میں ایران کے تیل کے کاروبار سے متعلق ایک ٹینکر کی بھی جانچ کی تھی۔ ایسے حالات میں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرہ شروع نہیں ہو سکا، اب سفارتکاری کے راستے بند ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ ظاہر ہے، ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

امریکی میڈیا ’ایکسیوز‘ کی رپورٹ میں 3 امریکی افسران کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے گروپوں کو اپنی مشترکہ تجویز دینے کے لیے بہت کم وقت دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کو اپنی صورتحال واضح کرنے کے لیے 3 سے 5 دن کا اضافی وقت دیں گے، لیکن یہ چھوٹ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوگی۔ ٹرمپ کا مقصد ایران کی قیادت پر دباؤ بنانا ہے تاکہ جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے وہ اپنا مؤقف رکھ سکیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔