بغداد: امریکی ہائی کمیشن کے قریب راکٹ سے حملہ، عراق سیکورٹی ایجنسی کی تصدیق

راکٹ حملہ کے بارے میں عراقی فوج نے بتایا کہ گرین زون میں دو راکٹ گرے ہیں۔ فی الحال اس حملے میں کسی کی ہلاکت کی خبر سامنے نہیں آئی ہے اور نہ ہی کسی نے اس حملے کی ذمہ داری لی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ایران-امریکہ کشیدگی میں فی الحال کوئی کمی واقع ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق عراق کی راجدھانی بغداد میں دو راکٹ حملے ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارہ اے ایف پی کے مطابق یہ حملہ بغداد کے گرین زون میں ہوا ہے جہاں امریکی ہائی کمیشن کے علاوہ کئی دیگر ممالک کے سفارتخانے موجود ہیں۔ بتایا یہ بھی جا رہا ہے کہ راکٹ امریکی سفارتخانہ کے بے حد نزدیک گرا۔ راکٹ سے حملہ کے بارے میں عراقی فوج نے بھی تصدیق کی ہے۔ عراقی فوج نے بتایا کہ گرین زون میں دو راکٹ گرے ہیں۔ فی الحال اس حملے میں کسی کی ہلاکت کی خبر سامنے نہیں آئی ہے اور نہ ہی کسی نے اس حملے کی ذمہ داری لی ہے۔

اس سے قبل ایران نے منگل کے روز اپنے تین ٹھکانوں سے اتحادی فوج کے عراق میں واقع فوجی اڈوں پر مختصر فاصلے سے 16 بیلسٹک میزائل داغے تھے۔ اس بات کی تصدیق امریکہ نے بھی بروز جمعرات کر دی ہے۔ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان میں سے 11 میزائلوں نے الشہد فوجی اڈے کو نشانہ بنایا اور ایک میزائل اربیل میں پھٹا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملےکی وجہ سے خیمے، پارکنگ، ایک ہیلی کاپٹر اور گاڑیوں کی آمدورفت کا راستہ تباہ ہو گیا ہے۔

غورطلب ہے کہ پینبگن نے ایرانی حملے کے بعد کہا تھا کہ تہران کی جانب سے دو امریکی اور اتحادی فوجی اڈوں پر تقریباً 12 سے زائد میزائلیں داغی گئی ہیں۔ ایرانی فوج اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ اس میں کم از کم 80 امریکی جوان مارے گئے ہیں۔ ایرانی فوج نے اپنے اعلی کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کے عراقی دارالحکومت بغداد میں ہوئے امریکی حملے میں مارے جانے سے بدلہ کے تئیں یہ حملہ کرنے کی بات کہی تھی۔ حالانکہ بعد میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ ایرانی حملے میں ایک بھی امریکی جوان ہلاک نہیں ہوا۔