ایران کا سیٹلائٹ راکٹ خلا میں روانہ، امریکہ کا اظہار تشویش

ایران نے 3 تحقیقی آلات سے لیس سیٹلائٹ کیریئر راکٹ خلا میں بھیج دیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس نے ایک سیٹلائٹ کیریئر راکٹ خلا میں بیھج دیا ہے

تصویر بشکریہ ایرانی وزارت دفاعی
تصویر بشکریہ ایرانی وزارت دفاعی
user

قومی آوازبیورو

تہران: ایران نے 3 تحقیقی آلات سے لیس سیٹلائٹ کیریئر راکٹ خلا میں بھیج دیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس نے ایک سیٹلائٹ کیریئر راکٹ خلا میں بیھج دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس راکٹ میں 3 تحقیقی آلات نصب ہیں تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ راکٹ خلا میں کب بھیجا گیا اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ آیا کوئی بھی چیز زمین کے گرد مدار میں داخل ہوئی ہے یا نہیں۔ تاہم ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان احمد حسینی کا کہنا ہے کہ سیمرغ سیٹلائٹ کیریئر راکٹ (فینکس) کو 470 کلومیٹر کی بلندی پر خلا میں بھیجا گیا اس کے علاوہ اس حوالے سے انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔


انہوں نے مزید یہ کہا کہ اس راکٹ کو خلا میں بھیجنے کے لیے جو تحقیقی اہداف پیش کیے گئے تھے وہ حاصل کر لیے گئے ہیں تاہم انہوں نے تحقیق کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی۔ دوسری جانب ایرانی ٹیلی ویژن نے راکٹ کے خلا میں بھیجے جانے کی فوٹیج نشر کرتے ہوئے اسے ایرانی سائنسدانوں کی ایک اور کامیابی قرار دیا۔ واضح رہے کہ ایران کی جانب سے خلا میں راکٹ بھیجے جانے کا اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب ویانا میں عالمی طاقتوں کے ساتھ اس کے ٹوٹے ہوئے جوہری معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں۔

اس حوالے سے ویانا سے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے تہران یونیورسٹی کے پروفیسر محمد مراندی نے کہا ہے کہ یہ راکٹ خلا میں بھیجنا ایران کے خلائی پروگرام کا حصہ ہے اور اس کا آسٹریا کے دارالحکومت میں جاری مذاکرات پر کوئی اثر نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری جانب ایران کے خلا میں راکٹ بھیجنے پر واشنگٹن میں تشویش پیداہوگئی ہے کہ سیٹلائٹ لانچ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ایران کے بیلسٹک میزائل کی ترقی کو آگے بڑھا سکتی ہے۔


امریکہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سیٹلائٹ لانچ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی ہیں جس میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائلوں سے متعلق کسی بھی سرگرمی سے باز رہے۔ خیال رہے کہ ایران کی جانب سے اس قبل راکٹ خلا میں بھیجنے پر امریکہ کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا گیا اور2018 میں اس پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔