آبنائے ہرمز کا انتظام اور جہاز رانی کے راستے جنگ سے پہلے جیسے نہیں رہیں گے: عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستے اور انتظام پہلے جیسے نہیں رہیں گے، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حقوق کی بحالی اور جنگی نقصانات کے معاوضہ پر زور دیا

تہران: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستے اور اس آبی گزرگاہ کا انتظام جنگ سے پہلے کی صورت حال میں واپس نہیں لوٹیں گے۔ ان کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد مغربی ایشیا میں بنیادی اور اسٹریٹجک تبدیلیاں آئی ہیں، جن کے پیش نظر خطے میں نئی حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، عراقچی نے اتوار کو راجدھانی تہران میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستے پہلے جیسے نہیں رہیں گے اور اس اہم آبی گزرگاہ کا انتظام بھی ماضی کی طرح نہیں ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں متعدد امور پر بات چیت ہوئی ہے اور یہ مذاکرات آئندہ بھی جاری رہیں گے
عراقچی نے کہا، ’’ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ نئی حقیقتیں سامنے آئی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں راستے پہلے جیسے نہیں رہیں گے اور اس کا انتظام بھی پہلے جیسا نہیں ہوگا۔ ایسے کئی معاملات ہیں جن پر ہم نے تبادلہ خیال کیا ہے اور بات چیت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔‘‘
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی ایشیا میں سلامتی کی ذمہ داری خطے کے ممالک کو خود اٹھانی چاہیے اور انہیں اس مقصد کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، غیر ملکی افواج اپنے مفادات کے تحفظ اور اسرائیل کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے خطے میں موجود ہیں، لیکن ان کی مسلسل موجودگی سے سلامتی کے بجائے عدم تحفظ میں اضافہ ہوگا۔
عراقچی نے کہا کہ ایران خطے کے تمام ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کے انتظام اور علاقائی سلامتی کے نظام میں تبدیلی کا خواہاں ہے۔ دوسری جانب، ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ اور امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے دوران ملک کو پہنچنے والے نقصانات کے معاوضے کے حصول کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی ویب سائٹ پر ہفتے کے روز شائع ہونے والے بیان کے مطابق، سپریم لیڈر اور ایران کے عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژه ای کے درمیان ملاقات میں ان معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں انصاف کے فروغ، عوامی حقوق کے تحفظ، بدعنوانی اور اس کی بنیادی وجوہات کے خلاف مؤثر کارروائی، عدالتی مقدمات کے فوری اور درست فیصلوں اور عدالتی احکامات پر مقررہ وقت میں عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک کے عدالتی نظام میں وسیع اور ٹھوس اصلاحات کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔
