اوباما کی ٹرمپ پر سخت تنقید، مہنگائی کے لیے ٹیرف پالیسی اور ایران جنگ کو ذمہ دار ٹھہرایا
ایران کے معاملے پر بات کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے، کیونکہ میں نے ایک ایسا معاہدہ کیا تھا، جسے سبھی نے قبول کیا تھا۔

امریکہ کے سابق صدر براک اوبامہ نے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو ’سسٹم کا سرکٹ بریکر‘ قرار دیتے ہوئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر تنقید کی۔ اوہائیو کے کلیولینڈ میں ایک ریلی کے دوران انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے ساتھ جنگ، ٹیرف پالیسیوں اور امیگریشن کے معاملے پر سختی کو بڑھتی مہنگائی کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔ براک اوبامہ ہفتے کے روز کلیولینڈ کے پبلک آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک ریلی میں شرکت کے لیے پہنچے تھے۔ یہ ریلی ڈیموکریٹک امیدوار ایمی ایکٹن، جو اوہائیو کے گورنر کے عہدے کی امیدوار ہیں، اور امریکی سینیٹ کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار اور سابق سینیٹر شیروڈ براؤن کی حمایت میں منعقد کی گئی تھی۔
اوبامہ نے کہا کہ اس انتظامیہ کے فیصلے براہ راست بڑھتی ہوئی مہنگائی کے لیے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صدر نے ایک ایسی غیر ضروری جنگ شروع کر دی، جسے نہ تو کسی نے طلب کیا تھا اور نہ ہی کسی نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ ایران کے معاملے پر بات کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے، کیونکہ میں نے ایک ایسا معاہدہ کیا تھا، جسے سبھی نے قبول کیا تھا۔ اس معاہدے نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے رکھا اور اس کے لیے مجھے میزائل نہیں داغنی پڑی۔ میں نے صرف سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا۔
اوبامہ نے کہا کہ 7 ماہ بعد حالات بدل چکے ہیں۔ ان کے مطابق ہمارے اتحادیوں اور فوجی اڈوں پر حملے ہوئے ہیں، امریکی شہری مارے گئے ہیں، سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں، ہمارے میزائلوں کے ذخیرے کم ہو گئے ہیں اور اب ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیا ہے، جہاں سے دنیا کے بازاروں تک تیل پہنچتا ہے۔ اوبامہ نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں، ڈیزل مہنگا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز کو ایشیا کے کئی ممالک، جن میں ہندوستان بھی شامل ہے، خام تیل کی سپلائی کا ایک اہم راستہ مانا جاتا ہے۔
تجارتی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ ٹرمپ کو ٹیرف بہت پسند ہیں، حالانکہ انہیں پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ آخرکار اس کی قیمت عام صارفین کو چکانی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف نے بھی مہنگائی بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اور اب وہ جس بڑی تجارتی جنگ کی شروعات کر رہے ہیں، وہ اس مبینہ ’خطرناک سلطنت‘ کناڈا کے خلاف ہے۔ اس پر ریلی میں موجود لوگ ہنس پڑے۔ اوبامہ نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں، جنہوں نے ہمیں میپل سیرپ اور اداکار مارٹن شارٹ دیے ہیں۔
امیگریشن کے معاملے پر اوبامہ نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے اس بات کے حامی رہے ہیں کہ سرحد محفوظ اور منظم ہونی چاہیے اور جو لوگ امریکہ آنا چاہتے ہیں، وہ قانونی طریقے سے آئیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ صدر رہتے ہوئے سرحدی سیکورٹی سخت کرنے پر انہیں اپنی ہی پارٹی کے بعض لوگوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ کسی نے انتخابی مہم کے دوران یہ کہا ہو کہ نقاب پوش اہلکار ہماری سڑکوں پر دوڑتے پھریں گے۔ مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ کسی نے قانون کی پابندی کرنے والے شہریوں کی گرفتاری، حراست یا ان پر فائرنگ کی بات کی ہو۔
اوبامہ نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی جانب سے کرائی جا رہی تزئین و آرائش پر بھی طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں تو ایچ جی ٹی وی پر ہونا چاہیے۔ وہ وائٹ ہاؤس سے بھی بڑا بال روم بنوا رہے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ پر ذاتی فائدے کے لیے صدارتی عہدے کا استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا۔ وینزویلا کے ایک ارب پتی کو دی گئی معافی کا ذکر کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ ہم نے اس سے قبل کبھی ایسا صدر نہیں دیکھا۔ یہ براہ راست عوام کے پیسے سے فائدہ اٹھانا ہے۔ انہوں نے میم کوائن اور ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے دیے جانے والے سرکاری ٹھیکوں کا بھی ذکر کیا۔
اوبامہ نے الزام لگایا کہ کانگریس میں موجود ریپبلکن رہنماؤں نے ٹرمپ کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے اوہائیو سے سینیٹ کے امیدوار اور ریپبلکن رہنما جان ہسٹڈ کا نام بھی لیا۔ اپنی تقریر کے اختتام پر اوبامہ نے کہا کہ یہ انتخاب اس انتظامیہ کی غلطیوں اور ناسمجھی پر کسی حد تک لگام لگانے کا شاید آخری بڑا موقع ہے۔ یہ ہمارے نظام کا سرکٹ بریکر ہے اور ہمیں اس سرکٹ بریکر کو شروع کرنا ہوگا۔ اوبامہ نے اوہائیو میں گورنر کے عہدے کے لیے ریپبلکن امیدوار وویک راماسوامی کے اس انتخابی اشتہار پر بھی تنقید کی، جس میں ایمی ایکٹن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد اوباما مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ روانہ ہو گئے، جہاں انہوں نے ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت میں انتخابی مہم چلائی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
