’106 بار ایران کی شکست، 88 بار معاہدے کا دعویٰ‘، ٹرمپ پر ایرانی رکنِ پارلیمان کا طنز

ایرانی رکنِ پارلیمان اسماعیل کوثری نے ٹرمپ کے بیانات کو متضاد اور ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ 106 بار ایران کی شکست اور 88 بار معاہدے کا دعویٰ کر چکے، مگر کوئی بھی دعویٰ درست ثابت نہیں ہوا

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونائڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)</p></div>
i

تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن اسماعیل کوثری نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت طنز کرتے ہوئے انہیں ’متضاد‘ اور ’ناقابلِ اعتبار‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ بار بار ایسے دعوے کرتے ہیں جو نہ صرف ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں بلکہ عملی طور پر بھی غلط ثابت ہوتے رہے ہیں۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کوثری نے کہا کہ ٹرمپ اب تک 106 مرتبہ ایران کی شکست کا اعلان کر چکے ہیں، مگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اسی طرح وہ 88 مرتبہ تہران کے ساتھ جلد معاہدہ ہونے کا دعویٰ بھی کر چکے ہیں، لیکن آج تک کوئی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے 75 مرتبہ آبنائے ہرمز کے کھلے ہونے کا دعویٰ بھی کیا، حالانکہ زمینی صورتحال اس کے برعکس رہی۔ ان کے مطابق امریکی صدر کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی حکمت عملی تضادات سے بھری ہوئی ہے، اس لیے ان کے اعلانات پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ چند گھنٹوں میں طے پا سکتا ہے۔ تاہم تہران متعدد مواقع پر واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے انکار کر چکا ہے اور اپنے موقف پر قائم ہے۔ بعد ازاں فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز جلد کھل جائے گی، اور اگر ایسا نہ ہوا تو ایران کو انتہائی سخت جواب دیا جائے گا، جس کے بعد یہ آبی گزرگاہ کھول دی جائے گی۔


امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے بڑی فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا تھا، لیکن ایران کی جانب سے مذاکرات کا پیغام ملنے کے بعد اس کارروائی کو وقتی طور پر روک دیا گیا۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے بدھ کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ اگرچہ عمان کے ساتھ بحری آمدورفت سے متعلق ایک سمجھوتہ طے پایا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی بات چیت صرف انہی دو ممالک تک محدود ہے اور اس کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔