آبنائے ہرمز پر پیش رفت، امریکی وزیر خزانہ کو ایران سے جلد معاہدے کی امید

امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ایک دو روز میں آبنائے ہرمز کھولنے پر معاہدہ متوقع ہے، جس سے ایندھن کی قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے، تاہم ایران نے امریکہ سے براہ راست مذاکرات کی تردید کی

<div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز / آئی اے این ایس</p></div>
i

واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکہ کو امید ہے کہ ایران کے ساتھ آئندہ ایک یا دو روز میں ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت دوبارہ معمول پر آ جائے گی۔ ان کے مطابق اگر یہ پیش رفت ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں بھی استحکام آنے کا امکان ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکہ ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور دونوں فریق اس بات پر پیش رفت کی کوشش کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولا جائے اور خطے میں جاری کشیدگی کو کم کر کے حالات کو معمول کی طرف لایا جا سکے۔

انہوں نے کہا، "ہم ایرانیوں سے بات کر رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ آج یا کل تک ہم آبنائے ہرمز کھولنے اور اس تنازع کو زیادہ معمول کی صورتحال کی جانب لے جانے کے لیے ایک معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں۔"


جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا اس ممکنہ معاہدے کے بدلے ایران کو کسی قسم کی تجارتی یا ٹیرف میں رعایت دی جائے گی تو اسکاٹ بیسنٹ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد صرف بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق اس مرحلے پر کسی ٹیرف رعایت پر بات نہیں ہو رہی۔

امریکی وزیر خزانہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اطلاعات کے مطابق ایران اور عمان گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے آبنائے ہرمز کے انتظام اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کے طریقہ کار پر بات چیت کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی براہ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ اس حوالے سے امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔

ادھر خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کی مکمل معلومات فراہم کی جائیں، ان کی نقل و حرکت سے آگاہ رکھا جائے اور آبی گزرگاہ سے ان کے انخلا کے طریقہ کار پر بھی واضح نظام وضع کیا جائے۔


ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کے حوالے سے کوئی قابلِ عمل معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف عالمی توانائی کی منڈیوں میں بے یقینی کم ہوگی بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی میں بھی کمی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید کے باعث اس ممکنہ معاہدے کی نوعیت اور اس کے عملی خدوخال ابھی واضح نہیں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔