میناب کے ’شہید بچوں‘ کے پیغام کے ساتھ ایرانی وفد سوئٹزرلینڈ روانہ، پہلی میٹنگ آج ممکن
ایرانی پارلیمینٹ کے اسپیکر نے کہا کہ میں میناب کے مظلوم بچوں اور وطن عزیز ایران کے تمام شہداء کو ہر وقت اپنے اعمال و کردار پر ناظر سمجھتا ہوں، وہ ہمیں دیکھ رہے ہیں اور ان کی امیدیں ہم سے وابستہ ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوئٹزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ تکنیکی مذاکرات سے قبل میناب اسکول کی ہولناک واردات کے متاثرین کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان 14 نکاتی مفاہمت کی یاد داشت (ایم او یو) کے تحت واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کے دوران ان کی قربانی اسلامی جمہوریہ کے اقدامات کی رہنمائی کرے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کی گئی ایک پوسٹ میں قالیباف نے کہا کہ وہ اور ایرانی وفد مذاکرات کی تیاری کرتے وقت میناب کے بچوں اور دیگر ایرانی شہداء کی یادیں اپنے ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں میناب کے مظلوم بچوں اور وطن عزیز ایران کے تمام شہداء کو ہر وقت اپنے اعمال و کردار پر ناظر سمجھتا ہوں، وہ ہمیں دیکھ رہے اور ان کی امیدیں ہم سے وابستہ ہیں، خدا سے دعا ہے کہ وہ مجھے مظلوم شہداء اور ایرانی قوم کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچالے، میں سرخروئی کے ساتھ اپنے ساتھیوں جاملوں سے جن کے دیدار کا میں بے چینی کے ساتھ منتظر ہوں۔‘‘ انہوں نے پوسٹ میں ’Minab168‘ ہیش ٹیگ کا استعمال کیا اور پیغام کو میناب اسکول کے بچوں کی یاد کو وقف کیا۔ یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی وفد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکہ کے ساتھ پہلی تکنیکی بات چیت کے لیے سوئٹزر لینڈ کے شہر زیورخ پہنچا ہے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے اسلامی جمہوریہ ایران براڈ کاسٹنگ (آئی آر آئی بی) کے مطابق ایران کا مذاکراتی وفد اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کی قیادت میں سوئزرلینڈ کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی، سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری علی باقری کنی، مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی، نائب وزیر پیٹرولیم حمید بورد، نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی اور ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی بھی ایران کے مذاکراتی وفد میں شامل ہیں۔
وفد کے دورے کا مقصد سفارتی مفاہمت کے تحت امریکہ کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینا اور اس کی پیروی کرنا ہے۔ وفد کے ترجمان اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ روانگی سے قبل مذاکرات کا بنیادی محور پہلے سے طے شدہ وعدوں کی پاسداری کو یقینی بنانا ہوگا۔ آئی آر آئی بی کے مطابق بقائی نے کہا کہ ہر معاہدے اور اتفاق رائے کا اصل امتحان اس وقت آتا ہے جب اس پر عمل درآمد کی بات ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران دوسری طرف سے ہونے والی تعمیل پر گہری ننظر رکھے گا اورماضی میں وعدوں کی عدم تکمیل کے تجربات کو دھیان میں رکھے گا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ دوسرے فریق کے ذریعہ وعدہ خلافی کے ہمارے تجربے کو دیکھتے ہوئے، ہمیں ان کے وعدوں کی تکمیل کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا ہوگا۔
ایرانی وفد کے سوئٹزرلینڈ پہنچنے پر وہاں کی وزارت خارجہ نے ان کا استقبال کیا اور کہا کہ یہ دورہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ سوئس وزارت خارجہ نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ایرانی وفد کی سوئٹزرلینڈ آمد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ایرانی وفد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمت کی یادداشت کے نفاذ کے ایک حصے کے طور پر برگن اسٹاک جا رہا ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
