ٹرمپ کی وارننگ پر ایران کا سخت ردعمل، اسے تشدد اور دہشت گردی پر اکسانے کے مترادف قرار دیا
ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کو داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تشدد اور دہشت گردی کو ہوا دینے کے مترادف ہے، جبکہ ملک میں معاشی بحران پر احتجاج جاری ہے

ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کیے گئے حالیہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے تشدد اور دہشت گردی کو اکسانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان میں کہا کہ ٹرمپ کا مؤقف ایران کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر کا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ ایران کے خلاف امریکہ کی دباؤ پر مبنی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ بیان کے مطابق اس طرح کے بیانات نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں بلکہ ایرانی شہریوں کے خلاف تشدد اور دہشت گردی کو ہوا دینے کے مترادف بھی ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایرانی حکام پُرامن مظاہرین پر فائرنگ کرتے ہیں یا ان کے خلاف تشدد کا استعمال کرتے ہیں تو امریکہ مظاہرین کو بچانے کے لیے مداخلت کرے گا۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ایران میں سرکاری سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ اس طرح کے بیانات خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور اگر صورتحال بگڑتی ہے تو اس کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری مکمل طور پر امریکی حکومت پر عائد ہو گی۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایران میں گزشتہ چھ دنوں سے خراب ہوتی معاشی صورتحال، بڑھتی مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ مختلف شہروں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ حکام کے مطابق بعض مقامات پر امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔
ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ احتجاج کو بیرونی عناصر کی جانب سے ہوا دی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب عوامی حلقوں میں معاشی دباؤ اور روزمرہ اخراجات میں اضافے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ حکام نے عندیہ دیا ہے کہ حالات پر قابو پانے کے لیے متعلقہ طبقات سے بات چیت کی جائے گی، تاہم کسی بھی بیرونی مداخلت کو مکمل طور پر مسترد کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران پہلے ہی مغربی پابندیوں، بلند افراطِ زر اور معاشی سست روی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث اندرونی سیاسی اور سماجی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔