امریکہ-ایران مذاکرات جاری، قیاس آرائیوں کو اہمیت نہ دی جائے: عباس عراقچی

عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، جبکہ موجودہ بیانات اور افواہیں محض قیاس آرائیاں ہیں۔ نیز، ایران نے اپنی جوابی کارروائیوں کو حقِ دفاع قرار دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں سامنے آنے والی بیشتر باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں اور انہیں زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ بدستور جاری ہے اور کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے کوئی قطعی رائے قائم کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق عباس عراقچی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری ہے اور مذاکراتی عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ مرحلے پر سامنے آنے والے مختلف دعوے اور تبصرے صرف اندازوں پر مبنی ہیں، اس لیے ان پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ رابطوں کا سلسلہ اس جنگ بندی کے بعد جاری ہے جس نے 40 روز تک جاری رہنے والے فضائی حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دور کو روک دیا تھا۔ یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں۔ اسی دوران ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر سفارتی مذاکرات بھی جاری تھے۔


دوسری جانب ایران کے سیاسی منظرنامے میں بھی بعض غیر مصدقہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مستعفی ہونے کے حوالے سے ایک خط مجتبیٰ خامنہ ای کو بھیجا ہے، تاہم ایرانی حکومت نے اس خبر کو فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹی میڈیا رپورٹ قرار دیا ہے۔

ادھر، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران نے اپنے خلاف ہونے والے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود ان ٹھکانوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جنہیں اس کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت حاصل حقِ دفاع کے دائرے میں آتے ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہر ملک کی ذمہ داری ہے کہ اس کی سرزمین یا وسائل کو کسی دوسرے ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے یورپی یونین پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ اس معاملے میں دوہرا معیار اختیار کر رہی ہے اور ایران کی جوابی کارروائیوں پر اعتراض کرتے ہوئے اصل حالات کو نظر انداز کر رہی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ سفارتی عمل میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ باہمی عدم اعتماد، واشنگٹن کے متضاد مؤقف اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں ہیں۔ ان کے مطابق مذاکرات ایسے ماحول میں جاری ہیں جہاں شکوک و شبہات موجود ہیں اور فریقِ ثانی کی جانب سے بار بار نئی یا متضاد شرائط پیش کیے جانے کے باعث پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔