’قومی مفادات سے کوئی سمجھوتہ نہیں، امریکہ سے مذاکرات میں ہیں انتہائی محتاط‘، ایرانی صدر کی دو ٹوک

ایران نے 3 اہم شرائط رکھی ہیں۔ پہلی، اس وقت اس کے جوہری پروگرام پر بات نہیں ہوگی۔ دوسری، مذاکرات سے پہلے اس کے منجمد اثاثے واپس کئے جائیں اور تیسری آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول اور انتظام جاری رہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایرانی صدر مسعود پیزشکیان۔ تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے قومی مفادات کی حفاظت کرنا چاہتا ہے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں انتہائی احتیاط  برت رہا ہے۔ ہفتے کے روز ایرانی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کے ساتھ ملاقات میں پیزشکیان نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے معاہدوں کی بار بار خلاف ورزی، مذاکرات کے دوران ایران پر حملوں اور اس کے افسران کی ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات کی وجہ سے عوام میں شدید عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔

پیزشکیان نے کہا کہ ایسے حالات میں ایران نے اپنے ’’برادرانہ تعلقات‘‘ والے دوست ممالک کے ساتھ مل کر بات چیت کی ہے لیکن اس کا بنیادی مقصد صرف ایرانی عوام کے مفادات کا تحفظ اور منصفانہ حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف اپنے لوگوں کے قانونی اور جائز حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں لیکن ہماری تاریخ اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا تجربہ ہمیں انتہائی احتیاط برتنے پر مجبور کرتا ہے۔


ایرانی صدر نے کہا کہ جنگ کبھی کسی کے مفاد میں نہیں ہوتی اس سے پورے خطے اور دنیا کو نقصان ہی ہوگا۔  نیوز ایجنسی ’زنہوا‘ کے مطابق منیر جو جمعہ کی رات تہران پہنچے، نے اس ملاقات کے دوران علاقائی استحکام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا، مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ ایران اور علاقائی ممالک کے لیے اس کا نتیجہ مثبت نکلے گا۔

اس کے علاوہ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ اگر واشنگٹن نے لچک نہیں دکھائی تو تہران کے ساتھ امن مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔ ’فارس‘ نے ایرانی مذاکرات کار ٹیم کے قریبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران نے 3 اہم شرائط رکھی ہیں۔ پہلی، اس وقت اس کے جوہری پروگرام پر بات نہیں ہوگی۔ دوسری، مذاکرات سے پہلے اس کے منجمد اثاثے واپس کئے جائیں اور تیسری آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول اور انتظام جاری رہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب تک ان تینوں اہم معاملات پر اتفاق نہیں ہو جاتا، کوئی بات چیت آگے نہیں بڑھے گی۔


واضح رہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل نے 40 دن کی لڑائی کے بعد 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جس کی شروعات 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہوئی تھی۔ جنگ بندی کے بعد ایران اور امریکی وفود کے درمیان 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں امن مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا تھا لیکن اس میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران فریقین نے تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے اپنی اپنی شرائط والی متعدد تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔