ایرَان نے امریکہ سے کَشیدگی کم کرنے کا دیا اشارہ

محمد جواد ظریف نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ’’تعمیری بات چیت کو لے کر ایران کی فعال سفارتکاری کی کوششیں جاری ہیں۔ آگے کا راستہ مشکل ہے لیکن کوشش جاری رہے گی‘‘۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

تہران: ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکہ کے ساتھ مسائل کا حل سفارتی ذرائع سے کرنے پر اظہار خیال کیا ہے۔ محمد جواد ظریف نے جی -7 کے 45 ویں سربراہی اجلاس کے دوران اتوار کو فرانس کے بيارٹز پہنچنے کے بعد ایک ٹوئٹس میں یہ بات کہی۔

محمد جواد ظریف نے امریکہ کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کے اقدامات پر بحث کے لئے جی -7 سمٹ سے الگ فرانس کے صدر امانوئل میكرون اور جین-یویز لی ڈرين کے ساتھ ملاقات کے بعد ٹوئٹ کیا ’’تعمیری بات چیت کو لے کر ایران کی فعال سفارتکاری کی کوششیں جاری ہیں۔ آگے کا راستہ مشکل ہے لیکن کوشش جاری رہے گی‘‘۔

اس دوران، جین-یویز لی ڈرين نے کہا ’’کل جی -7 کے رہنماؤں کے درمیان اہم بات چیت ہوئی اور اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ محمد جواد ظریف کو اس سے آگاہ کرایا جائے تاکہ اس کے ذریعے کشیدگی کو کم کیا جائے اور بات چیت کے لئے جگہ بنائی جائے‘‘۔

فرانس کے ٹاپ حکام کے ساتھ محمد جواد ظریف کی بات چیت کے حوالہ سے ابھی تک کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ اس سے پہلے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے کہا تھا کہ محمد جواد ظریف نے فرانس کے وزیر خارجہ کی سرکاری دعوت پر بيارٹز کا سفر کیا۔ انہوں نے کہا تھا ’’محمد جواد ظریف کے فرانس کے بيارٹز شہر کے دورے کے دوران امریکی وفد کے ساتھ کسی طرح کی کوئی ملاقات یا بات چیت نہیں ہوگی‘‘۔

امانوئل میکرون نے بھی اتوار کو کہا ’’ہر کوئی لڑائی سے بچنا چاہتا ہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس معاملہ پر بہت واضح ہیں‘‘۔ محمد جواد ظریف نے جمعہ کو پیرس میں امانوئل میکرون کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا تھا کہ فرانس نے 2015 کے ایران جوہری معاہدے کو لاگو کرنے کے طریق کار کو لے کر اپنے خیالات رکھے ہیں۔

14 جولائی 2015 کو ایران، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، فرانس، برطانیہ، روس اور چین-اور جرمنی کے درمیان ایٹمی معاہدہ ہوا تھا۔ امریکہ نے گزشتہ سال اس معاہدے سے باہر ہونے کے بعد ایران پر کئی طرح کی پابندی لگا دی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے۔

Published: 26 Aug 2019, 12:10 PM