ایران کو شکست دینے میں دشمن 41 برسوں سے ناکام رہا

فتح پوری مسجد کے خطیب مفتی مکرم احمد نے اپنی تقریر میں قاسم سلیمانی کو بھرپور خراج پیش کیا اور کہا کہ قاسم سلیمانی اور ابومہدی المھندس کوامریکی فوج کی جانب سے ہلاک کیے جانے کے بعد پوری دنیا خاموش رہی۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

امریکہ کے حملہ میں جاں بحق اسلامی انقلابی گارڈز کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اورعراق کی مشہور الحشد الشعبی فورس کے ابومہدی المھندس کی مجلس چہلم کی تقریب قومی دارالحکومت نئی دہلی کے ایران کلچر ہاؤس میں منعقد ہوئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور انسانیت کو بچانے وعالمی دہشت گردی کے خلاف ان کی عظیم قربانی کو خراج پیش کیا۔

نئی دہلی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اعلی کے دفتر کے نمائندوں نے اس مجلس کا اہتمام کیا تھا، جس میں قم کے مدرسہ کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اشرفی مہمان خصوصی تھے۔ شیخ آیت اللہ الشعری نے قرأت کلام پاک پیش کیا، جبکہ مشہور شاعر رضا سرسوی نے قاسم سلیمانی اورابومہدی المھندس کو خراج پیش کرنے کے لئے اپنی نظم پیش کی۔

شرکا کا استقبال کرتے ہوئے رہبر اعلی اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندہ مہدی مہدوی پور نے کہا کہ ہندوستان کے لوگوں نے قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ایران کے عوام سے یگانگت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن 41 برسوں سے ایران کو شکست دینے میں ناکام رہا اور اب وہ باربار دھمکا رہا ہے تاکہ صداقت کے دفاع کو کمزور کیا جاسکے۔

سرکردہ سنی عالم و فتح پوری مسجد کے خطیب مفتی مکرم احمد نے اپنی تقریر میں قاسم سلیمانی کو بھرپور خراج پیش کیا اور کہا کہ قاسم سلیمانی اور ابومہدی المھندس کوامریکی فوج کی جانب سے بغداد میں ہلاک کیے جانے کے بعد پوری دنیا تماشائی بنی رہی۔

کویت کی سرکردہ شخصیت حاج المصطفی نے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ امام حسینؑ کے حقیقی چاہنے والے ہیں تو انسانیت آپ سے بھی محبت کرے گی۔ مہمان خصوصی آیت اللہ رضا العارفی نے کہا کہ سلیمانی کی شہادت نے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے عظیم اخلاقی اور انسانی اقدار کا اظہار کیا ہے۔ وہ مغرور طاقت کی کٹھ پتلی کے خلاف لڑنے والے ایک عظیم فوجی حکمت عملی کے ماہر اور بہادر کمانڈر تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر بین الاقوامی قوانین ممالک کے حقوق کا تحفظ کرنے سے قاصر ہیں تو یقینی طور پر مزاحمتی فورسس جیسے حزب اللہ اور حماس اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑی ہوں گی۔ ایرانی سفیر برائے ہند ڈاکٹر علی چیگنی نے کہا کہ کمانڈر سلیمان نے کبھی بھی کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے سہارے عراق اور شام میں دہشت گردی کے جواب میں کی جانے والی مساعی کی نگرانی کر رہے تھے۔ اس کے برعکس ہمارے کمانڈر کو ہلاک کرتے ہوئے امریکہ نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

مقررین کے علاوہ مولانا قمر حسین اور مولانا ممتاز علی نے بھی خطاب کیا۔ اختتامی سیشن کے موقع پر میگزین ”دی لیڈر“ کا فروری کا شمارہ جاری کیا گیا۔ یہ شمارہ قاسم سلیمانی اور دیگر شہدا کے نام معنون کیا گیا ہے۔