ایران کو کورونا کی چوتھی لہر کا سامنا، بیشتر علاقوں میں 10 روزہ لاک ڈاؤن

ایرانی حکومت نے کووِڈ-19 کے بڑھتے ہوئے کیسوں کے پیش نظر ملک کے بیشتر علاقوں میں ہفتے سے دس روز کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔ اس نے یہ فیصلہ ملک میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر پھیلنے کے پیش نظر کیا ہے

کورونا ایران / Getty Images
کورونا ایران / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

تہران: ایرانی حکومت نے کووِڈ-19 کے بڑھتے ہوئے کیسوں کے پیش نظر ملک کے بیشتر علاقوں میں ہفتے سے دس روز کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔ اس نے یہ فیصلہ ملک میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر پھیلنے کے پیش نظر کیا ہے۔

ایران کی وزارت صحت کے ترجمان علی رضا رئیسی نے ہفتے کے روزبتایا ہے کہ ملک کے 31 میں سے 23 صوبوں میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا ہے۔ان صوبوں میں کاروبار، اسکول، تھیٹر اور کھیلوں کے میدان اور مراکز بند رہیں گے اور رمضان المبارک کے دوران میں اجتماعات پر پابندی عاید ہوگی۔

ایرانی وزارت صحت کے مطابق ملک میں ایک مرتبہ پھر کرونا وائرس کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور گذشتہ ایک ہفتے سے روزانہ بیس ہزار سے زیادہ کیس ریکارڈ کیے جارہے ہیں۔ایران میں اب تک کووِڈ-19 کے 20 لاکھ سے زیادہ کیس ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔ ان میں سے 64 ہزارمریض وفات پا چکے ہیں۔

دریں اثناء ایرانی صدر حسن روحانی نے ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ’’بدقسمتی سے آج میں ہم چوتھی لہر میں داخل ہوگئے ہیں۔‘‘انھوں نے پڑوسی ملک عراق کو ایران میں کروناوائرس کی نئی شکل پھیلنے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔عراق میں کرونا کی برطانوی شکل کے سب سے پہلے کیس سامنے آئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’’لوگوں کی بڑی تعداد کا آزادانہ سفر کرنا، شادی کی تقریبات میں شرکت اور ایران کے نئے سال نوروز کو دھوم دھام سے منانے سے بھی کرونا وائرس ایک مرتبہ پھر تیزی سے پھیلا ہے اور اس کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘

وزارت صحت کے ترجمان علی رضا رئیسی کے بہ قول کرونا وائرس کی برطانوی شکل اس وقت ملک کے طول وعرض میں پھیل چکی ہے اور اس سے متاثرہ 257 شہروں اور قصبوں میں اس وقت ریڈالرٹ ہے۔

ایران میں گذشتہ سال چین کے بعد مشرقِ اوسط میں سب سے پہلے کرونا وائرس کی وبا پھیلی تھی۔اس سال فروری میں اس نے عراق کے ساتھ واقع بیشتر سرحدی گذرگاہوں کو بند کردیا تھا تاکہ وائرس کی برطانوی شکل کو ملک میں پھیلنے سے روکا جاسکے۔عراق جانے والے ایرانی زائرین وہاں اس مہلک وائرس کا شکار ہوکر ملک لوٹ رہے ہیں۔

ایران میں کرونا وائرس کی ویکسین لگانے کی مہم بھی سست روی کا شکار ہوچکی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کو ابھی تک روس کی ساختہ ویکسین سپوتنک پنجم کی چارلاکھ سے زیادہ خوراکیں وصول ہوئی ہیں۔اس نے روس سے 20 لاکھ خوراکیں خرید کرنے کا آرڈر دیا تھا۔اس نے برطانوی دواساز کمپنی آسٹرازینیکا سے 42 لاکھ خوراکیں درآمد کرنے کا آرڈر دے رکھاہے۔

ایران نے چین کی سائنو فارم ویکسین کی ڈھائی لاکھ خوراکیں خرید کی ہیں اور یہ اس کو وصول ہوچکی ہیں۔اس کے علاوہ اس نے بھارت کی کوویکسین کی پانچ لاکھ خوراکیں بھی خرید کرنے کا آرڈر دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔