ایران میں برطانوی سفیر زیر حراست، احتجاج میں ہوئے تھے شامل

یونیورسٹی طلباء نے ریلی نکال کر اس حادثے کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ ریلی کے دوران مظاہرین نے مبینہ طور پر مرحوم کمانڈر قاسم سلیمانی کی ایک تصویر بھی پھاڑی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

تہران: ایران میں برطانیہ کے سفیر روب میکا یرے کو یہاں احتجاج کرنے اور اس میں حصہ لینے کی وجہ سے ہفتے کی شام کو کچھ گھنٹوں کے لئے گرفتار کر لیا گیا۔ خبر رساں ایجنسی تسنیم کی رپورٹ کے مطابق تہران میں اميركبير یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے باہر یوکرین طیارہ حادثے کے خلاف سینکڑوں طلباء احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے جس میں روب میکایرے بھی شامل ہوئے۔

طلباء نے ریلی نکال کر یوکرین طیارے حادثے کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ ریلی کے دوران مظاہرین نے مبینہ طور پر ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی قدس فورس (آئی آر جی ایس) کے مرحوم کمانڈر قاسم سلیمانی کی ایک تصویر بھی پھاڑی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کا استعمال بھی کیا۔ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر مرحوم قاسم سلیمانی کی گزشتہ ہفتے امریکی ڈرون حملے میں موت ہو گئی تھی۔ روب میکایرے پر مظاہرین کو اکسانے کا الزام ہے۔

برطانیہ کے سفیر روب میکا یرے کو گرفتار کرنے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا، لیکن اس سلسلے میں سمن بھیج کر ان سے جواب طلب کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ بدھ کو ہوئے یوکرین طیارے حادثے میں طیارے میں سوار تمام مسافروں اور عملے سمیت کل 176 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مہلوکین میں زیادہ تر لوگ ایران اور کینیڈا کے تھے۔ یہ حادثہ اسی دن ہوا جب ایران نے عراق میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر 15 سے زیادہ میزائل داغے تھے۔