اسرائیلی حملہ میں 78 افراد کی موت سے ایران چراغ پا، امریکہ کے ساتھ جاری جوہری مذاکرہ منسوخ کرنے کا اعلان

ایرانی سرکاری میڈیا نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا ہے کہ تہران پر اسرائیلی ہوائی حملوں میں 78 افراد کی موت ہوئی ہے، جبکہ 329 دیگر لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>اسرائیل اور ایران کا پرچم</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران کے جوہری تنصیبات اور دیگر ٹھکانوں پر اسرائیلی حملہ کے بعد مشرق وسطیٰ میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی حملہ میں کم از کم 78 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے اور 329 اشخاص زخمی ہوئے ہیں۔ یہ جانکاری ایرانی سرکاری میڈیا کے ذریعہ دی گئی ہے، ساتھ ہی مطلع کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے کئی سرکاری ٹھکانوں اور فوجی اداروں کو ہدف بناتے ہوئے اب تک 5 مراحل میں ہوائی حملے کیے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ حملے پوری طرح سے منصوبہ بند تھے اور ان میں 20 سے زائد ایران کے سینئر فوجی افسران کی موت ہوئی ہے۔

جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، اس کے مطابق اسرائیل نے ایران پر طیاروں سے بموں کی بارش کی ہے۔ شمالی ایران کے تبریز میں تقریباً 10 الگ الگ ٹھکانوں پر بمباری ہوئی ہے۔ اسرائیلی افسران نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اس ایئر اسٹرائیک سے قبل ہی اسلحے اور ڈرون ایران کے اندر پہنچا دیے تھے، اور وقت آتے ہی ان سے حملہ کر دیا گیا۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملہ میں ہلاک 20 سینئر ایرانی کمانڈرس میں ایرانی ریوولیوشنری گارڈس کے چیف اور ایئرواسپیس فورس کمانڈر امیر علی حاجی زادہ بھی شامل ہیں۔


تہران پر ہوئے حملوں سے ایران چراغ پا ہے۔ اس نے اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ رہے نیوکلیائی مذاکرہ سے رسمی طور پر پیچھے ہٹنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس طرح کے ’جارحانہ اور اکساوے والے عمل‘ کے بعد بات چیت کی کوئی بھی بنیاد نہیں بچتی۔ ایرانی رد عمل کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ایک دوسرا موقع ہے، اگر وہ سمجھوتہ کرنا چاہے۔ اس بیان کو بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے کشیدگی کو مزید بڑھانے والا اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔