فرانس اور ایران میں بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی شرائط پر اتفاق

میكرون اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان اس مسئلہ پر فون پر بات چیت ہوئی ہے اور میكرون نے 2015 کے معاہدے کو ختم ہونے کے نتائج پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

تہران: ایران اور دنیا کی دیگر سپر پاور کے درمیان جوہری معاہدہ سے امریکہ کے گزشتہ سال ہٹ جانے کے بعد پیدا ہونے والے بحران کو دیکھتے ہوئے فرانس اور ایران نے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی شرائط پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اطلاع فرانس کے صدر امانوئل میکرون نے دی ہے۔ اس معاہدہ میں ایران کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین بھی فریق تھے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق میكرون اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان اس مسئلہ پر فون پر بات چیت ہوئی ہے اور میكرون نے 2015 کے معاہدے کو ختم ہونے کے نتائج پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بی بی سی نیوز کے مطابق روحانی نے یوروپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاہدے کو بچانے کے لئے مستعدی سے کام کریں۔ گزشتہ سال امریکہ کے اس معاہدے سے پیچھے ہٹ جانے کے بعد سے یہ معاہدہ بحران میں آ گیا تھا۔

اس کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر کئی پابندیاں عائد کردی تھیں اور اس سال مئی کے مہینے میں ایران نے افزودہ یورینیم کی پیداوار کو کافی بڑھا دی تھی۔ اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اس کا استعمال جوہری بم بنانے میں کرے گا۔ ایران کو اس طرح کے یورینیم کی جتنی ضرورت ہے اس نے اس سے زیادہ مقدار میں اس کو جمع کر لیا ہے۔

اس دوران بی بی سی کے سیاسی امور کے ماہر جوناتھن مارکس نے کہا ہے امریکہ کو اس بات چیت کے لئے منانا بہت مشکل ہے۔ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کو کم کرنے کے لئے یوروپی ممالک کافی محنت کر رہے ہیں اور اس معاہدے کے مستقبل کو لے کر اتنی بے یقینی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔

قابل غور ہے کہ یوروپی ممالک نے ایران کے ایٹمی عزائم پر لگام لگانے کے لئے 2015 کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ گزشتہ ہفتہ ایران نے اعلان کیا تھا کہ وہ معاہدے کے تحت اپنے کچھ وعدوں کو پورا نہیں کرے گا۔ گزشتہ سال امریکہ نے معاہدے سے باہر ہونے کا اعلان کیا تھا اور ایران پر مزید سخت پابندی عائد کردی تھی۔

Published: 7 Jul 2019, 5:10 PM