اقوام متحدہ میں ہندوستان نے کی پاکستان کی سرزنش، بین الاقوامی مدد پر زندہ رہنے والا ناکام ملک قرار دیا

یو این میں ہندوستانی سفیر نے پاکستان کو جواب دیتے ہوئے اسے ناکام ملک قرار دیا جو بین الاقوامی مدد پر زندہ ہے۔ ہندوستان نے جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے پاکستان کے بیانیے کو مسترد کر دیا

<div class="paragraphs"><p>اقوام متحدہ میں بولتے ہندوستانی سفیر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نیویارک: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 58ویں اجلاس میں ہندوستان نے پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک ناکام ریاست قرار دیا جو بین الاقوامی مدد پر زندہ ہے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ میں ہندوستانی سفارتکار کشیتج تیاگی نے پاکستان کے جھوٹے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فوجی اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کے ذریعے غلط معلومات پھیلا رہا ہے۔

تیاگی نے زور دے کر کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ ہمیشہ ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں جموں و کشمیر میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی ترقی نے دہشت گردی کے سائے کو کم کرنے میں مدد دی ہے اور عوام کا حکومت پر اعتماد بڑھایا ہے۔

انہوں نے پاکستان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’ایک ایسا ملک جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اقلیتوں کے استحصال اور جمہوری اقدار کو روندنے کے لیے بدنام ہو، وہ کسی اور کو اخلاقیات کا درس دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پاکستان ان دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے جنہیں اقوام متحدہ نے عالمی دہشت گرد قرار دیا ہے۔‘‘


ہندوستانی سفارتکار نے پاکستان کی تنظیم او آئی سی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے ہندوستان پر جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف رہتا ہے۔

تیاگی کی یہ سخت تنقید اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مندوب پاروتھنینی ہریش کے اس بیان کی تصدیق کرتی ہے جس میں انہوں نے 19 فروری کو پاکستان کے جھوٹے بیانیے کی مذمت کی تھی۔

ہریش نے کہا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ہندوستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ناکام کوششیں کر رہا ہے، جبکہ جموں و کشمیر ہمیشہ سے ہندوستان کا حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔ ہندوستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کو واضح الفاظ میں تنبیہ کی کہ وہ ہندوستان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود پر توجہ دے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔